پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے

پاکستان میں صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے بیرونِ ملک جانے پر عائد پابندی ہٹانے کا حکم جاری کیا ہے۔

عدالت کے مطابق یہ حکم 15 روز کے بعد سے نافذ العمل ہوگا اور اس دوران کوئی بھی فریق اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔

ادھر اسلام آباد کی ایک عدالت نے لال مسجد کے سابق نائب خطیب مولانا عبد الرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں ملزم پرویز مشرف کو یکم جولائی کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے ہٹائے جانے کے سلسلے میں درخواست کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کا موقف مسترد کردیا ۔

وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف پر بےنظیر بھٹو قتل کیس، نواب اکبر بگٹی کیس، لال مسجد اور آرٹیکل 6 کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، وہ ان مقدمات میں عدالتوں کے روبرو پیشی سے استثنیٰ چاہتے ہیں۔

وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے، اگر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا گیا تو وہ پھر وطن واپس نہیں آئیں گے۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے بارے میں دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے موقف طلب کیا تھا۔

اس سے پہلے پرویز مشرف کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف کے وکیل نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو ایک خط تحریر کیا تھا، جس کے جواب میں سیکریٹری داخلہ نے بتایا ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف کئی مقدمات زیر سماعت ہیں، اس لیے ان کا نام خارج نہیں کیا جا سکتا۔

پرویز مشرف کی درخواست کے مطابق یہ اقدام انتقامی رویے کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ مقدمات تو کئی لوگوں پر ہیں، لیکن ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پرویز مشرف کے خلاف بےنظیر بھٹو قتل کیس، نواب اکبر بگٹی کیس، لال مسجد اور آرٹیکل 6 کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں

درخواست گزار کے مطابق جنرل مشرف نے مختلف عدالتوں سے ضمانت حاصل کر رکھی ہے، اور کسی بھی ٹرائل کورٹ نے ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد نہیں کی، جبکہ خصوصی عدالت نے بھی ان کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور وہ جب چاہے انھیں طلب کر سکتی ہے۔

انھوں نے اس پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا اور استدعا کی ہے کہ جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے۔

یاد رہے کہ اس درخواست کی گذشتہ سماعت کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے موکل کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہے جس کا اعلاج پاکستان میں نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس میڈیکل رپورٹ کو استغاثہ نے عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ یہ عدالت اس مقدمے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹس بھی ملک کے کسی بھی شہری کے مقدمے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہیں۔ واضح رہے کہ اٹارنی جنرل نے اس سے قبل اعتراض کیا تھا کہ چونکہ پرویز مشرف اسلام آباد کے رہائشی ہیں، چنانچہ اس مقدمے کی سماعت کا اختیار صرف اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے لال مسجد کے سابق نائب خطیب مولانا عبد الرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں ملزم پرویز مشرف کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ سے متعلق درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اُنھیں یکم جولائی کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے آئندہ سماعت پر پیش نہ ہونے پر اُن کے اور اُن کے ضامنوں کے خلاف تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل شدید بیمار ہیں جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہیں۔ اُنھوں نے عدالت میں اپنے موکل کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا جس پر درخواست گُزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ ڈاکٹروں کی طرف سے سفر کرنے سے متعلق ایڈوائس ہے۔

اختر شاہ کا کہنا تھا کہ اُنھیں معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے اُن کے موکل کو اس مقدمے کی تفتیش میں بےگناہ قرار دیا ہے اور ایسی صورتحال میں ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری نہیں ہے جس پر متعلقہ عدالت کے جج واجد علی کا کہنا تھا کہ ابھی تک اسلام آباد پولیس کی طرف سے اس مقدمے کا حمتی چالان عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ پانچ اپریل سنہ 2013 کو ملک کی وزارتِ داخلہ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل پر اس لیے ڈالا تھا کہ وہ اپنے اوپر دائر مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کریں۔

اسی بارے میں