’پاکستان کو دوسروں کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان سے سنہ 2016 تک بیرونی افواج کا انخلا مکمل ہو جائے گا

پاکستان میں سیاسی و فوجی قیادت میں افغانستان پر کتنا اختلاف ہے؟ اس کا اندازہ موجودہ حالات میں لگانا مشکل ہے لیکن اس کے بارے میں سابق فوجی اور سویلین حکام کی سوچ کا اشارہ گذشتہ دنوں ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کی عوامی سماعت کے دوران ہوا۔

ایک جانب سابق سویلین اہلکار خالد عزیز تھے جو خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں تقریباً تمام اہم ترین عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور ان کے مقابلے میں سابق فوجی اور آئی ایس آئی کے سربراہ اسد دورانی تھے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ محض حسنِ اتفاق تھا یا خاص سوچ کی عکاسی، لیکن دلچسپ ضرور تھا۔

یہ عوامی سماعت افغانستان میں نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد پاکستان کی ممکنہ متبادل پالیسی پر سوچ بچار کے لیے منعقد کی گئی۔

گھنٹوں طویل اس عوامی سماعت میں سب اس بات پر متفق تھے کہ افغانستان کے آئندہ چھ ماہ انتہائی اہم ہیں لیکن لیکن کرنا کیا چاہی، اس مدت میں چپ سادھ کر بیٹھنا بہتر ہے یا متحرک کردار ادا کرنا چاہیے، اس پر آرا میں اتفاق دکھائی نہیں دیا۔

جنوبی ایشیا خصوصاً افغانستان کے لیے اس اہم موڑ پر سینیٹ کی اس نشست کے انعقاد کے وقت کو تمام شرکا نے انتہائی موزوں قرار دیا۔

سینٹر حاجی محمد عدیل کی صدارت میں کئی گھنٹوں جاری رہنے والی اس سماعت میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی، خالد عزیز، قاضی ہمایوں اور سلیم صافی جیسے ماہرین نے اپنی رائے کا اظہار کھل کر کیا لیکن امریکہ اور برطانیہ میں سابق سفیر ملیحہ لودھی کا اصرار تھا کہ اس سے بھی زیادہ کھل کر بات بند کمرے اور محدود تعداد میں لوگوں کی موجودگی میں کی جاسکتی تھی۔

’میں اس بات کی داعی ہوں کہ کئی باتیں عوامی سطح پر ہونی چاہیے لیکن میں یہ بھی سجھتی ہوں کہ کئی باتیں چھوٹے کمروں اور محدود تعداد میں لوگوں کی موجودگی میں ہی کی جانی چاہیے۔‘

ملیحہ لودھی نے علاقائی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان کے لیے تین پہلوں کو توجہ طلب قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ معلوم سے زیادہ نامعلوم ہیں۔ خطے کی صورتحال کیا کروٹ لیتی ہے یہ غیریقینی ہے۔ ان غیریقینی حالات میں پاکستان نتائج کے بارے میں رائے اکیلا نہیں قائم کر سکے گا۔ ہمیں اسے تسلیم کرنا ہوگا۔ اسے خطے میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسے واقعات کے ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ قبل از وقت اقدامات کی پالیسی اپنانی ہوگی۔ اس سب کے لیے ہمیں اپنے گھر کو محفوظ بنانا ہوگا جس کے لیے کم از کم شدت پسندی کی حد تک اتفاق رائے، پائیدار سیاسی و فوجی تعلقات اور معیشت کو مستحکم کرنا ہوگا۔‘

لیکن پاکستان کو ایک متحرک کردار کی بھر پور انداز میں مخالفت سابق چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا خالد عزیز نے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دوسروں کے معاملات پر پڑنے کا خیال ذہن سے نکال دینا چاہیے۔ اس بابت انھوں نے پختون معاشرے میں اُس شخص کی مثال دی جسے عام طور پر جرگہ مار کہا جاتا ہے جو دوسروں کے مسائل حل کرواتے کرواتے خود زندگی بھر کی دشمنیوں میں پھنس جاتا ہے۔ ’ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم میں یہ صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔‘

لیکن وہاں عام لوگوں اور صحافیوں میں موجود آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد دورانی کو خالد عزیز کی یہ باتیں ہرگز پسند نہیں آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہنے کے بعد اگر وہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں تو یہ حیرت کی بات ہے۔ اس پر خالد عزیز نے برجستہ جواب دیا کہ اس کی وجہ شاید ان کا کسی فوجی عہدے پر فائز نہ رہنا ہے۔

معروف صحافی سلیم صافی کو خدشہ تھا کہ غیرملکی انخلا کے بعد افغانستان میں پراکسی وار میں تیزی آئے گی۔ ’ابھی تو وہاں امریکہ کی حامی اور مخالف لابیز ہیں لیکن بعد میں یہ ایران، سعودی عرب، پاکستان اور کئی دیگر لابیز میں تبدیل ہو جائیں گی جو زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کوئی افغان پاکستان مخالف نہیں ہے چاہے وہ حامد کرزئی ہوں یا عبداللہ عبداللہ۔ پاکستان کو ہر افغان کو اس عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔

سینیٹ کی سماعت میں پاک افغان سرحد جیسے اہم موضوع پر بھی بات ہوئی۔ باڑھ لگانے کی تجویز پر اسد دورانی کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ وہاں استعمال شدہ سریے کی ایک دکان کھول کر اربوں کما سکیں گے یعنی یہ تجویز عمل درآمد کے قابل نہیں ہے۔

اس تمام بحث میں تاہم افغانستان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ سکیورٹی معاہدے یعنی بی ایس اے کا کوئی ذکر نہیں ہوا جس پر کئی ہمسایہ ممالک کو تحفظات ہیں۔

سرحد کی بہتر نگرانی یقیناً ضروری عمل ہے جس پر شاید ہی دو رائے ہوں لیکن پاکستان کے پالیسی ساز اداروں نے اصل فیصلہ یہی کرنا ہے کہ افغانستان کے معاملے میں اس کا متحرک رہنا بہتر ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں