’فوج، خفیہ اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت زیادہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خفیہ اداروں کو جمہوری معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے: اچکزئی

پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ جمہوریت کو شدید خطرات لاحق ہیں اس لیے اس نظام کو بچانے کے لیے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بُلایا جائے یا پھر آل پارٹیز کانفرس بُلا کر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے جو جمہوریت کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ اس نظام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں دو شریف اقتدار میں ہیں جن میں سے ایک وزیرِ اعظم اور دوسرے آرمی چیف ہیں اور ان دونوں کو چاہیے کہ وہ دنیا کو واضح پیغام دیں کہ سیاسی اور فوجی قیادت ہر معاملے پر یکساں موقف رکھتی ہے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ملک کا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کو جمہوری معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

محمود جان اچکزئی نے ایوان میں چیلنج کیا کہ اگر کسی کو فرانس روس اور جاپان کی افواج کے سربراہوں یا خفیہ ادروں کے سربراہوں کے نام معلوم ہوں تو وہ ابھی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں فوج اور خفیہ اداروں کی سیاسی معاملات میں اتنی زیادہ مداخلت ہے کہ دنیا کے لوگ سیاسی قیادت کے بارے میں کم جبکہ فوجی قیادت کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔

محمود جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ان کی اسٹیبلیشمنٹ سے لڑائی ہی یہی ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت کو چلنے نہیں دیتے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی دعا ہے کہ انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی بنے۔

پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو غیر مستحکم نہیں کرنا چاہیے جو عناصر ایسا کر رہے ہیں اُنھیں عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر وہ وزیرِ اعظم ہوتے تو علامہ طاہرالقادری کو پاکستان کی سرزمین پر اُترنے ہی نہ دیتے اور انھیں ہوائی اڈے سے ہی ڈی پورٹ کرکے واپس کینیڈا بھجوا دیتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری فوج کے خود ساختہ کمانڈر بنے ہوئے ہیں اور اُنھوں نے فوج سے اپنی حفاظت کے لیے سکیورٹی مانگی ہے اس بارے میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بیان جاری کرنا چاہیے تھا۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مختلف علاقوں میں جلسے کرنے کی بجائے خیبر پختون خوا میں گورننس پر توجہ دیں اور وہاں کی عوام کو ریلیف فراہم کریں جنھوں نے اُن کی جماعت کو ووٹ دیے ہیں۔

اسی بارے میں