اسلام آباد: پیمرا چیئرمین کو توہینِ عدالت کا نوٹس

Image caption عدالت نے پیمرا کے عبوری چیئرمین اور سیکرٹری اطلاعات کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے عبوری چیئرمین سمیت چار افراد کو توہین عدالت سے متعلق دائر دو مختلف درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے جواب طلب کر لیے ہیں۔

جن دیگر افراد کو نوٹس جاری ہوئے ہیں اُن میں سیکرٹری اطلاعات، نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹیو سلمان اقبال کے علاوہ اینکرپرسن مبشر لقمان شامل ہیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ اُن اینکروں کے بارے میں بھی بتایا جائے جو لینڈ مافیا کے مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سفارت خانوں سے ’گفٹ‘ بھی وصول کرتے ہیں۔

اسلام آباد کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر عدلیہ کے خلاف چلنے والے پروگرام کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مذکورہ نجی ٹی چینل پر ’ کھرا سچ‘ پروگرام میں مسلسل اعلیٰ عدلیہ کی تضحیک کی گئی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے جج جواد ایس خواجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس درخواست کی سماعت کی۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی تضحیک سے متعلق پروگرام نشر ہوا لیکن نہ تو پیمرا اور نہ ہی وزارتِ اطلاعات نے اس پروگرام کو روکا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ عدالت کا احترام سب پر واجب ہے۔

اُنھوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیسے حکومت نے عدلیہ کی تضحیک سے متعلق نشر ہونے والے پروگرام کا نوٹس نہیں لیا۔

عدالت نے پیمرا کے عبوری چیئرمین اور سیکرٹری اطلاعات کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حال ہی میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ملک کے سب سے بڑے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کرنے کے علاوہ اس پر ایک کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ایسے صحافیوں اور اینکروں کی فہرست بھی پیش کی جائے جو لینڈ مافیا کے پے رول پر ہوں۔

عدالت نے ایسے صحافیوں کے بارے میں مزید معلومات بھی مانگی ہیں جن میں پلاٹوں کی تفصیلات اور اُن کے خاندان کے اثاثہ جات شامل ہیں۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جائے کہ وہ افراد کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اُن صحافیوں کی بھی فہرست فراہم کی جائے جو مختلف سفارت خانوں سے ’گفٹ‘ یعنی تحائف وصول کرتے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ایک کمیشن بھی تشکیل دیا جائے جو اس بات کا جائزہ لے کہ ان صحافیوں اور اینکروں کا رہن سہن اُن کی آمدن سے زیادہ تو نہیں ہے۔

ادھر جسٹس نور لحق قریشی کی عدالت کے زیرِ سماعت ایک اور درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کی طرف سے نو جون کو دیے جانے والے حکم کے باوجود پرویز راٹھور قائم مقام چیئرمین پیمرا کی حثیت سے کام کر رہے ہیں لہٰذا اُنھیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے۔

عدالت نے چیئرمین پیمرا کو اس درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے دس روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ درخواست پیمرا کے دو اعزازی ارکان اسرار عباسی اور فریحہ افتخار کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

اسی بارے میں