شریک ملزمان شامل کرنے کی درخواست قبل از وقت ہے: عدالت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پرویز مشرف کی طرف سے دائر کی گئی اس درخواست میں استغاثہ سے متعدد اضافی دستاویزات مانگی گئی تھیں

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ارکان قومی اسمبلی اور کورکمانڈرز کو بطور شریک ملزم شامل کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ درخواست قبل از وقت ہے۔

خصوصی عدالت کے رجسٹرار عبدالغنی سومرو نے جمعے کے روز سابق فوجی صدر کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ ابھی اس مقدمے میں شہادتیں ریکارڈ کرنے کا مرحلہ شروع نہیں ہوا اور جب یہ مرحلہ شروع ہوگا تو ملزم جس شریک ملزم کا نام لینا چاہے اسے اس کا اس کا اختیار ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ شریک ملزمان کے ناموں کا ریکارڈ مانگنے کا مرحلہ ابھی نہیں آیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم کو کوئی بھی متعلقہ دستاویز طلب کرنے کا حق ہے لیکن یہ مرحلہ اُس وقت شروع ہوگا جب استغاثہ کی جانب سے شہادتیں طلب کی جائیں گی۔

پرویز مشرف کی طرف سے دائر کی گئی اس درخواست میں استغاثہ سے متعدد اضافی دستاویزات مانگی گئی تھیں۔ ان دستاویزات میں سات نومبر 2007 کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بھی شامل تھی جس میں پرویز مشرف کے تین نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے سے متعلق قرارداد بھی منظور کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ اس درخواست میں اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کی طرف سے صدر پرویز مشرف کو ملک میں ایمرجنسی لگانے سے متعلق بھیجی گئی سمری، ارکان قومی اسمبلی کے نام، پرویز مشرف کے بطور آرمی چیف عہدہ چھوڑنے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے نوٹیفکیشن کی کاپی اور نگراں حکومت میں شامل افراد کے نام بھی مانگے گئے تھے۔

پرویز مشرف کے وکلا کا موقف تھا کہ ملک میں ایمرجنسی اُن کے موکل نے اکیلے نہیں لگائی تھی بلکہ اس بارے میں اُس وقت کی وفاقی حکومت کے علاوہ کور کمانڈرز، چاروں صوبوں کے گورنرز اور وزرائے اعلیٰ سے بھی مشاورت کی گئی تھی۔

اس لیے آرٹیکل چھ کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ساتھ اُن افراد کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ چلایا جائے جن کے ساتھ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے مشاورت کی گئی تھی۔

سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت 17 جون تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ اس دن استغاثہ کی جانب سے شہادتیں قلمبند کی جائیں گی۔

اسی بارے میں