شمالی وزیرستان سے افغانستان نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں بھی حکام تصدیق کرتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں کشیدگی کے باعث سینکڑوں افراد افغانستان کے سرحدی علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں

افغانستان کے حکام کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے تقریباً سات ہزار کے قریب افراد نے خواتین اور بچوں سمیت سرحد پار کرکے افغان علاقوں میں پناہ لے لی ہے۔

افغان حکام کے مطابق گذشتہ تقریباً تین چار ہفتوں کے دوران شمالی وزیرستان میں فوج کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں شدت آنے کے باعث ڈیورنڈ لائن کے اس پار افغانستان کے صوبے خوست کی طرف نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے۔

فوجی کارروائی کے لیے سیاسی جماعتوں سے رابطے

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومت نے ابھی تک شمالی وزیرستان آپریشن کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ حکومت کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیاں اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں شدت پسندوں کے حملے کی صورت میں موثر جواب دیا جاتا ہے۔

صوبہ خوست کے گورنر کے ترجمان مباریز محمد زدران نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کی صبح بھی 90 افراد کا ایک قافلہ شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کر کے یہاں پہنچا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب تک سات ہزار کے لک بھگ افراد نے افغان علاقے گربز اور دیگر مقامات پر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے ہاں پناہ لی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغان حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متاثرین کی رہائش کا مستقل انتظام کرنے کےلیے کوششیں تیز کر دی ہیں جبکہ بے گھر افراد کو خوراک اور خیمے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ خوست کی صوبائی انتظامیہ نے متاثرین کی رجسٹریشن اور دیگر معلومات حاصل کرنے کےلیے دو کمیشن مقرر کیے ہیں جن کا کام متاثرین سے متعلق ہر قسم کی تحقیقات کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کا خاص خیال رکھا جارہا ہے کہ متاثرین کی آڑ میں ایسے افراد پناہ حاصل نہ کریں جو دونوں ممالک کو دہشت گردی اور شدت پسندی کے جرائم میں ملوث رہے ہوں۔

پاکستان میں بھی حکام تصدیق کرتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں کشیدگی کے باعث سینکڑوں افراد افغانستان کے سرحدی علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ چند دن قبل شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے سربراہ حافظ گل بہادر نے ایک پمفلٹ کے ذریعے مقامی لوگوں کو کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے بنائے گئے کیمپوں میں جانے کی بجائے وہ ایسے علاقوں کی طرف نقل مکانی کریں جہاں سے افغانستان منتقل ہونا آسان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب تک سات ہزار کے قریب افراد نے افغان علاقے گربز اور دیگر مقامات پر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے ہاں پناہ لی ہے: افغان حکام

اس پمفلٹ کے بعد شمالی وزیرستان سے نقل مکانی میں اضافہ ہوا تھا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کراچی میں شدت پسندوں کی طرف سے ایئر پورٹ پر بڑے حملے کے بعد شمالی وزیرستان سے نقل مکانی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

کراچی میں حملے کے بعد ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ شاید اب طالبان کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند دنوں سے غیر ملکی ازبک، ترکمان، چیچن جنگجو اور حقانی نیٹ ورک کے شدت پسند بھی علاقے سے نکل کر دیگر خفیہ مقامات کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ حکومت کی طرف سے ایف آر بکاخیل کے علاقے میں شمالی وزیرستان کے متاثرین کے لیے ایک پناہ گزین کیمپ قائم کیاگیا ہے لیکن وہاں ابھی تک ذرائع ابلاغ کو کسی قسم کی کوئی رسائی نہیں دی گئی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کمیپ میں سہولیات کے فقدان کے باعث وہاں ابھی تک وہاں کوئی متاثرہ خاندان نہیں گیا۔

اسی بارے میں