شمالی وزیرستان میں آپریشن، ’فیصلہ کن جنگ لڑیں گے‘

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ضربِ عضب کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فوجی آپریشن کا نام ’ضربِ عضب‘ رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے مذاکرات کے تقدس کو پامال کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور ’ہم فیصلہ کن جنگ لڑیں گے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف جامع فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان کو پناہ گاہ بنا کر ریاست کے خلاف جنگ شروع کر رکھی تھی اور دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان میں زندگی مفلوج کر رکھی تھی۔

بیان کے مطابق فوج کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ دہشت گرد قومی زندگی کو ہر لحاظ سے غیر مستحکم کر رہے ہیں۔

اس سے قبل پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں سے بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں کم سے کم 80 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

فضائی کارروائی میں 80 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ PAF

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں سے بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 80 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ رات ڈیڑھ بجے کے قریب کیے جانے والے حملوں میں دتہ خیل کے دیگان نامی علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر ازبک جنگجو تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بظاہر ان حملوں کا ہدف ازبکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو تھے۔ ازبک جنگجوؤں نے حال ہی میں کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 30 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان شدت پسندوں کا تعلق کراچی حملے کے منصوبہ سازوں سے تھا۔

بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ازبک جنگجو اور کراچی ایئر پورٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ابو عبدالرحمان المانی بھی شامل ہے۔

بیان کے مطابق پاکستانی فوج نے یہ فضائی کارروائی ازبک اور دوسرے شدت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کی ہے۔ حملوں میں بارودی مواد کا ایک ذخیرہ بھی تباہ کیا گیا ہے۔

حملوں میں ہونے والے نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

اس ہفتے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی یہ اپنی نوعیت کی دوسری کارروائی ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات ہوئی فوجی کارروائی میں شدت پسندوں کے چھ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے جبکہ بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں کوئی زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جس وقت یہ حملے کیے گئے اس وقت اس مقام پر شدت پسندوں کا ایک اجلاس جاری تھا۔ سرکاری سطح پر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty

یہ کارروائی تحصیل دتہ خیل کے ایک پسماندہ علاقے دیگان میں کی گئی ہے ۔ دیگان کا علاقہ میران شاہ سے کوئی 20 سے 25 کلو میٹر دور دتہ خیل روڈ پر واقع ہے ۔

ہمارے نمائندے کے مطابق ایسا لگتا ہے جیسے شمالی وزیرستان ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ اور دیگر عملہ موجود ہی نہ ہو۔ گذشتہ دنوں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے کے بعد بھی انتظامیہ سے رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن ان کے دفتر اور ان کے کنٹرول روم کے نمبروں سے جواب موصول نہیں ہوا۔

میران شاہ سے ایک مقامی شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کل سے فضا میں دو سے تین جیٹ طیارے اور دو ہیلی کاپٹر گشت کر رہے ہیں۔ میران شاہ میں مکمل خاموشی ہے جبکہ مضافاتی علاقوں سے مختلف اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں مکمل کرفیو ہے کوئی باہر نہیں جا سکتا اس لیے یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ کہاں کتنا نقصان ہوا ہے۔

آخرکار مذاکرات ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ AP

لگ بھگ چار سال قبل جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے پاکستانی ریاست کے مختلف ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

یہ کارروائیاں کبھی کسی فوجی افسر کی ہلاکت کا جواب میں ہوتیں تو کبھی کسی عوامی مقام پر حملے کا بدلہ۔ ان سب کارروائیوں میں واضح پالیسی یا ہم آہنگی کم ہی نظر آتی تھی۔

کوئی ’گڈ طالبان، بیڈ طالبان‘ کا ڈھنڈورا پیٹتا تو کوئی فاٹا کے قبائلی عمائدین کو پالیسی میں شریک کرنے کی باتیں کرتا۔

اگرچہ پاکستانی ریاست کئی بار دہشت گردوں کے چھوٹے چھوٹے گروہوں کے ساتھ محدود علاقوں کے لیے امن معاہدے کرتی رہی ہے، لیکن پہلی بار وفاقی حکومت نے براہِ راست تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی اپنائی۔

ماضی کے فوجی آپریشن

2001-02 جنوبی وزیرستان میں آپریشن المیزان

2007 باجوڑ میں آپریشن شیر دل

2008 جنوبی وزیرستان میں آپریشن زلزلہ

2008 ملاکنڈ ڈویژن اور سوات میں آپریشن راہِ حق

2009 ملاکنڈ ڈویژن اور سوات میں آپریشن راہِ راست

2010 جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات

ان آپریشنوں میں متاثرہ علاقوں میں حکومتی عمل داری قائم کرنے کے حوالے سے 2009 میں مالاکنڈ ڈویژن میں کیا گیا آپریشن راہِ راست کامیاب ترین تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ 2009 کی پاکستان سکیورٹی رپورٹ کے مطابق 2008 میں 313 کے مقابلے میں 2009 میں سکیورٹی فورسز نے 596 آپریشنل حملے کیے اور اس سال میں 12866 شدت پسند گرفتار کیے گئے۔ ان میں 75 القاعدہ کے اراکین اور 9736 مقامی طالبان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے اراکین شامل تھے۔

اس حوالے سے متعدد کُل جماعتی کانفرنسیں بھی منعقد ہوئیں جن میں سے آخری نو ستمبر 2013 کو ہوئی۔ ان کانفرنسوں میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ملک میں قیامِ امن کے لیے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کرے۔

آئندہ کئی ماہ تک مذاکرات کی آنکھ مچولی چلتی رہی۔ کمیٹیاں بنیں، کمیٹیوں پر سوال اٹھے، جیمز بانڈ کی فلموں کی طرح کے خفیہ مقامات پر کمیٹیاں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ملنے گئیں۔ یہاں تک کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تو طالبان کا دفتر کھولنے تک کی تجویز پیش کر دی۔ امریکہ نے بھی ڈرون حملے روکنے کی حامی بھر لی۔

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے رہے کہ حکومت ریاستی خود مختاری میں شراکت کے علاوہ ان دہشت گردوں کو دے کیا سکتی ہے؟ قیدیوں کا تبادلہ؟ علاقے میں نقصانات کے عوض معاوضہ؟

دوسری جانب ملک کی ایک اہم سیاسی جماعت تحریکِ انصاف سمیت عوام کا ایک بڑا حصہ مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے کی حمایت کرتا رہا۔

ادھر طالبان کے گروہوں کے درمیان لڑائیاں بھی شروع ہونے لگیں۔ کوئی مذاکرات کرنا چاہتا تھا، تو کوئی لڑائی۔ کبھی مذاکرات پر اتفاق تو کبھی ان کے انداز پر اعتراض تھا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ان لڑائیوں کی حقیقی وجہ تنظیم میں داخلی اثر و رسوخ کی جنگ تھی۔

عوام میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ حکومت اس بارے میں سنجیدہ تھی ہی نہیں اور صرف موسمِ سرما پرامن طریقے سے گزارنا چاہتی تھی کیونکہ اس موسم میں وزیرستان کے پہاڑی علاقوں میں فوجی آپریشن مشکل ہوتا ہے۔ ادھر کچھ لوگ کہتے رہے کہ طالبان پاکستان کے لوگوں کو مذاکرات میں الجھا کر اپنے وسائل میں اضافہ کر رہے تھے۔

آخرکار مذاکرات ناکام ہوگئے۔ اور اس ناکامی کی آخری قسط شاید کراچی ہوائی اڈے پر گذشتہ ہفتے دس شدت پسندوں کا حملہ تھی۔

اسی بارے میں