’دما دم مست قلندر ضربِ عضب‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بلاول نے اپنی ٹویٹ میں کھل کر آپریشن کی حمایت کی

پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے فیصلے پر ملے جُلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ سب سے اہم بات جماعت اسلامی اور پاکستان پیپلز پارٹی کا یکساں موقف ہے جس میں دونوں نے حکومت سے شکوہ کیا ہے کہ انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی

اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کا موقف ملتا جلتا ہے۔ ایک جانب جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’دما دم مست قلندر ضربِ عضب‘ اور دوسری جانب پارٹی کی سینئیر رہنما مہرین انور راجہ جماعت اسلامی کی طرح شکوہ کناں ہیں اور کہتی ہیں کہ بہت کنفیوژن نظر آرہی ہے وزیراعظم کو بات کرنی چاہیے تھی، اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ پہلے فوج نے اعلان کیا اور پھر وزیردفاع نے اس کی تائید کی: ’یہ واضح نہیں کہ سول حکومت کا یہ اپنا فیصلہ ہے یا نہیں؟ پہل کی یا نہیں کی، ہم امید کرتے ہیں کہ جو یہ انتشار ہے اور ایسے لوگوں پر قابو پایا جا سکے جنھوں نے دہشت گردی پھیلائی ہوئی ہے۔‘

مہرین انور راجہ نے کہا کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ آپریشن کا اعلان پہلے حکومت کرتی گو کہ بہت دیر ہوچکی ہے تاہم اسے واضح اور فوکسڈ ہونا چاہیے: ’ہم امید کرتے ہیں کہ معاملات بہتری کی طرف جائیں گے۔‘

جماعت کی ایک اور رہنما نفیسہ شاہ نے ٹویٹ کیا کہ ’فوجی کارروائی کے ساتھ ہیں: ’#ضربِ عضب کے ساتھ لازماً شہروں میں امداد دی جانی چاہیے اور تمام صوبوں میں منظم کارروائی کی جائے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی

عوامی نیشنل پارٹی کے سینئیر رہنما سینٹر حاجی عدیل کا کہنا ہے کہ یہ بہت اہم فیصلہ ہے شاید اسے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا: ’جنرل کیانی ایک ایسے جنرل تھے جو فیصلہ کرنے کی قوت سے عاری تھے، وہ کشمکش کا شکار تھے۔‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حاجی عدیل نے کہا کہ جنرل راحیل شریف صاحب نے یہ فیصلہ کیا اور یہ اب سے بہت پہلے ہو چکا تھا۔

’بڑے فخر سے وہ (دہشت گرد) کہتے ہیں کہ ہم نے یہ حملے کیے ہیں تو بتائیں کہ اب حکومت اور فوج کے لیے کون سا راستہ رہ گیا ہے، بات چیت کر کے دیکھ لیا۔‘

حاجی عدیل نے مزید کہا کہ اب اگر کوئی گروہ بات چیت کرنا چاہتا ہے جو سفید جھنڈا لہرانا چاہتا ہے تو حکومت اپنی شرائط کے تحت ان سے بات چیت کرے۔

متحدہ قومی موومنٹ

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے فوجی آپریشن کے آغاز پر کہا کہ دہشت گرد اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

ایم کیو ایم کے رہنمانے آپریشن ضربِ عضب کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قوم کو متحد ہونا ہوگا اور ایک قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔

’آئین پاکستان کو نہ ماننے والوں نے ملک میں جنگ مسلط کی ہوئی ہے۔ اس جنگ میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔‘

قومی وطن پارٹی

قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ خود بھی کئی بار دہشت گروں کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے آپریشن کا آپشن استعمال کرنا ہے تو اہم مسئلہ نقل مکانی کرنے والوں کا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ شہریوں کی ہلاکتیں ہوں۔

انھوں نے کہا کہ ان امور کا جائزہ لینے کے بعد پارٹی کا موقف پیش کیا جائے گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اب ہم چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو۔

’چار سے پانچ ماہ تک مذاکرات ہوئے لیکن پیش رفت نہیں ہو سکی اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طریقے سے امن قائم کرتے ہیں۔‘

جماعت اسلامی

جماعت کے سینیئر ممبر فرید پراچہ کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر نے پہلے اور وزیر داخلہ نے آپریشن کا اعلان بعد میں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل حکومت کس کے پاس ہے اور اصل اختیارات کس کے پاس ہیں۔

فرید پراچہ نے شکوہ کیا کہ کم ازکم حکومت کو اس بارے میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا: ’یہ ان کا حق ہے، انھوں نے مذاکرات کے لیے حکومت کو مینڈیٹ دیا تھا۔‘

جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ اس سارے معاملے میں دہشت گردوں کے ساتھ کوئی نہیں لیکن قبائلیوں کو ایک بار پھر بے گھر ہونا ہوگا اور حکومت نے انھیں بالکل نظر انداز کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف

صوبہ خیبر پختونخوا کی حکمراں جماعت تحریک انصاف کی ترجمان شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک مختصر پیغام میں کہا ہے ’کس قدر شرمناک بات ہے کہ حکومت شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے سیاسی لیڈر شپ کو اعتماد میں لینے میں ناکام ہوئی۔‘

’پی ٹی آئی کی سینٹرل کمیٹی کی ہنگامی ملاقات کل ہوگی اور ہم اپنا تفصیلی موقف پیش کریں گے۔‘

جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ

جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے رہنما سینیٹر غفور حیدری نے آپریشن پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ مذاکرات کا ڈھونگ رچایا گیا ہے، یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ اگر آپریشن دفاع کے لیے ضروری بھی ہے تو اسے محدود ہونا چاہیے۔ ہماری اطلاعات ہیں کہ اس میں گناہ گار اور بے گناہ دونوں مارے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں وقتاً فوقتاً آپریشن جاری رہے ہیں: ’آپریشن میں کبھی سردی کبھی گرمی اب ذرا تیزی آگئی ہے، لیکن ہمارا نقطۂ نظر یہی رہا ہے کہ آپریشن سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئی۔‘

مولانا غفور حیدری نے کراچی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کی طرح یہاں بھی ٹارگٹڈ آپریشن ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا تو یہی موقف ہے کہ مذاکرات کے راستے سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے تھا۔

’ہم سمجھتے ہیں کہ مفاہمت اور مذاکرات کے راستے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے تھا،گاؤں کے گاؤں ملیا میٹ ہو رہے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دہشت گردی پورے ملک میں پھیل جائے۔‘

اسی بارے میں