’حکومت نے آپریشن کے لیے تین محاذوں پر تیاری کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک سینیئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران حکومت اور اس کی ایجنسیوں نے کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ اور ان کے اہم کمانڈروں اور جنگجوؤں کے بارے میں تجزیاتی رپورٹیں اور دیگر تفصیلات مرتب کر لی تھیں

شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے لیے مسلح افواج نے خاصا عرصہ قبل منصوبہ بندی کر لی تھی جبکہ حکومت نے اس آپریشن کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تین محاذوں پر تیاری کر رکھی تھی۔

ان میں آپریشن کے ہدف گروہوں کو الگ کرنا، فوجی کارروائی کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنا اور شہروں کو اس آپریشن کے ردعمل سے محفوظ بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا شامل ہے۔

پہلے مرحلے میں حکومت نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے اس گروہ اور اس کے سرکردہ افراد کو شناخت کر کے انھیں باقی شدت پسندوں سے الگ کیا جو ملا فضل اللہ کے وفادار ہیں اور ان کے ساتھ منسلک رہنے کے لیے پر عزم ہیں۔

ایک سینیئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران حکومت اور اس کی ایجنسیوں نے کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ اور ان کے اہم کمانڈروں اور جنگجوؤں کے بارے میں تجزیاتی رپورٹیں اور دیگر تفصیلات مرتب کر لی تھیں۔

ان فوجی افسر کے مطابق اس مشق کا مقصد اس آپریشن کے ہدف کو واضح اور صاف بنانا تھا، جو فضل اللہ اور اس کے وفادار ساتھیوں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سرکاری اداروں کو معلوم ہو چکا ہے کہ کون سے شدت پسند اس لڑائی میں فضل اللہ کا ساتھ نہیں دیں گے۔

حکومت ان شدت پسندں اور قبائل کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اس سے نہ صرف اس آپریشن کا زمینی پھیلاؤ کم ہو سکے گا بلکہ مقامی سطح سے فوج کو جاسوسی میں بھی خاصی مدد ملے گی۔

فوجی افسر کے مطابق اس بندوبست میں سول حکومت اور اس کے اداروں نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

دوسرا اہم کام جو اس دوران حکومت نے انجام دیا ہے وہ اس ممکنہ آپریشن کے لیے رازداری کے ساتھ سیاسی حمایت کا حصول ہے۔

رازداری قائم رکھنے کے لیے حکومت نے ایسے افراد کو یہ ذمہ داری سونپی تھی جن کا فوجی کارروائی یا قبائلی علاقوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی شامل ہیں۔

اس کمیٹی کے ذریعے حکومت نے تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا تھا، تاہم جس جماعت سے براہِ راست رابطہ نہیں کیا وہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف ہے۔

اس جماعت سے رابطہ نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی اور اس کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا کہ اس موضوع پر وزیراعظم نواز شریف عمران خان کی رہائش گاہ پر اُن کے ساتھ براہ راست ملاقات کر چکے ہیں۔

یہ ملاقات دو ماہ قبل اسلام آباد میں ہوئی تھی جب وزیراعظم میاں نواز شریف اچانک عمران خان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے تھے۔

حکومت نے وزیرستان میں فوجی کارروائی کے لیے تیسرا اہم کام شہروں کو اس آپریشن کے ردعمل کے لیے تیار کرنا تھا۔

اس مقصد کے لیے ایک ماہ قبل ہی وزارت داخلہ نے تمام بڑے شہروں اور اہم مقامات کے لیے سکیورٹی منصوبہ تیار کر لیا تھا جس میں فوج کو اہم کردار دیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت اتوار کے روز جب ایک طرف مسلح افواج نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی کی تو اس سے پہلے ہی اسلام آباد کے تمام حساس مقامات پر فوج کے تازہ دم دستے تعینات کر دیے گئے تھے۔

ایک اہم سرکاری افسر کے مطابق اس طرح کے اقدامات ملک کے دیگر علاقوں کے لیے بھی طے کیے جا چکے ہیں جنہیں کسی بھی وقت بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں