’اعتماد میں نہیں لیا لیکن آپریشن کی حمایت کرتے ہیں‘

Image caption حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر اُنھیں قائم رہنا چاہیے: خورشید شاہ

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے فیصلے پر اُن کی جماعت حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔

شدت پسندی کے واقعات میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے آپریشن سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا لیکن اس کے باوجود وہ فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تقریر کے بعد خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر اُنھیں قائم رہنا چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اُس سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جو کہ وقت کا تقاضا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے غیر ملکی دوروں کو زیادہ اہمیت دی۔ اُنھوں نے کہا کہ جب مذاکرات جاری تھے تو اُس وقت صوبہ خیبر پختونخوا میں خودکش حملے کم ہوگئے تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کو تقریر ختم کرنے کے بعد کچھ دیر ایوان میں موجود رہنا چاہیے تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم ایک سال تک ایوان بالا یعنی سینیٹ میں نہیں گئے اور اگر وہ کچھ دیر مزید نہ جاتے تو کوئی قرق نہ پڑتا۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے مختلف جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ اگرچہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے یہ گلہ بھی کیا کہ حکومت نے اس بارے میں اُنھیں یا اُن کی جماعت کی قیادت کو اعمتاد میں نہیں لیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی داوڑ خان کُنڈی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا جو اس فوجی آپریشن کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اُن شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو وہاں سے بھاگ کر ملک کے مختلف حصوں اور بالخصوص پنجاب میں پناہ لیں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور صوبہ خیبر پختون خوا کے سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کے مقامی افراد کی حمایت حاصل ہو اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ آپریشن کامیاب نہیں ہوگا۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نذیر خان کا کہنا تھا کہ اُنھیں حکومت سے ایک گلہ ہے کہ قبائلی عمائدین کو بھی شدت پسندوں سے مذاکرات کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں