ملتان سے’اہم شخصیت‘ کے قریبی عزیز اغوا

Image caption عسکری کارروائی کے آغاز کے بعد پنجاب میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان کے علاقے گارڈن ٹاون سے پیر کی صبح مبینہ طور پر ایک اہم شخصیت کے قریبی عزیز عمر جیلانی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق عمر جیلانی ایک اہم شخصیت کے قریبی رشتہ دار ہیں اور انھیں اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ صبح دفتر جانے کے لیے اپنے گھر سے نکلے تھے۔

انھیں مبینہ طور پر اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک کار اور موٹر سائیکل پر سوار چھ سے سات افراد نے اغوا کیا۔ دو اغوا کاروں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ ان افراد نے عمر جیلانی کو اپنی گاڑی میں ڈالا اور نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے عمر جیلانی کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان کی بازیابی کو جلد از جلد ممکن بنائیں۔

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائی کے آغاز کے بعد پنجاب میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ بڑے بڑے شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر جانچ پڑتال بڑھا دی گئی ہے اور حساس مقامات اور عمارتوں کی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے آپریشن’ضربِ عضب‘ کے آغاز کے بعد پنجاب میں سلامتی کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ لاہور کے کور کمانڈر اور ڈی جی رینجر پنجاب نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مقصد حصول کے لیے پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

عمر جیلانی کے اغوا کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہوا ہے۔