یوسف رضا گیلانی کی 12 مقدمات میں ضمانت منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے پانچ برسوں میں کسی کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں کی تھی

کراچی میں وفاقی انسداد ِ بدعنوانی عدالت نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں کرپشن کے مقدمات میں ضمانت منظور کر لی ہے اور گرفتاری کے وارنٹ معطل کر دیے ہیں۔

گذشتہ دنوں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ملتان میں یوسف رضا گیلانی کے گھر پر چھاپے مارے تھے لیکن وہ دستیاب نہیں تھے۔ اس کے بعد وہ منگل کو سابق چئیرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک، صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن، شرمیلا فاروقی اور کئی درجن کارکنوں کے ساتھ وفاقی انسداد ِ بدعنوانی عدالت میں پیش ہوئے۔

جج محمد عظیم نے سابق وزیر اعظم کے مقدمے کی اپنے چیمبر میں سماعت کی۔ یوسف رضا گیلانی کی جانب سے مقدمے کی پیروی فاروق ایچ نائیک نے کی۔ سماعت کے بعد وکیل فاروق ایچ نائیک نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت نے 12 مقدمات میں یوسف رضا گیلانی کی ضمانت منظور کر لی ہے اور انھیں ایک ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے جمع کرانا ہوں گے۔ فاروق ایچ نائیک نے ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، پارٹی چیئرمین ذوالفقار بھٹو، بےنظیر بھٹو اور راجہ پرویز مشرف بھی عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں اور وہ بھی اسی تسلسل میں عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے پانچ برسوں میں کسی کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔

اسی مقدمے میں سابق وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم، ٹی ڈی اے کے افسران بشیر حسین رضوی، فرحان جونیجو، وزیر اعظم سیکریٹیریٹ کے ڈپٹی سیکریٹری محمد زبیر اور میاں محمد طارق کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں مختلف کمپنیوں کو جعلی سبسڈی کی مد میں دو ارب روپوں کی بدعنوانی کی گئی تھی۔ اس کے خلاف 65 مقدمات دائر کیے گئے جن میں سے 12 کی تفتیش مکمل ہوگئی ہے۔ ان 12 مقدمات میں سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں