آخر شمالی وزیرستان ہی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی وزیرستان میں اس کے بعد بھی فوجی کارروائیاں ہوئیں لیکن آخری اطلاعات تک جلال الدین کا حقانی نیٹ ورک یہیں کہیں سرگرم رہا

شمالی وزیرستان پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں میں رقبے اور محلِ وقوع کی وجہ سے ’درمیانی‘ ایجنسی قرار دی جاسکتی ہے۔

یہ ایجنسی نہ بہت بڑی اور نہ ہی انتہائی چھوٹی ہے۔ اس کے جنوب میں جنوبی وزیرستان، شمال میں کرم ایجنسی اور خیبر پختونخوا کے ہنگو کرک اور بنوں کے علاقے واقع ہیں۔ شمالی وزیرستان چار ہزار مربع میل پر محیط پہاڑی علاقہ ہے جہاں مختلف قبائل صدیوں سے آباد ہیں۔

آخر اس ایجنسی میں ایسا کیا ہے کہ ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں نے اسی کا رخ کیا اور یہیں ڈیرے ڈالے؟

بعض ماہرین کے مطابق اس کی تین بڑی وجوہات علاقے کا نسبتا آسان جغرافیہ، شدت پسندوں اور حکومت کے درمیان سنہ 2008 کا امن معاہدہ اور سب سے اہم حافظ گل بہادر کی شخصیت رہی۔

سینئیر افغان صحافی سمیع یوسفزئی اس کی ایک وجہ تاریخ بھی بتاتے ہیں:

’روس کے خلاف مزاحمت کے دوران بھی یہی ایجنسی مجاہدین کا مرکز رہی۔ دوسری وجہ اس کی افغانستان کے علاقوں خوست، گردیز اور پکتیا سے جڑا ہوا ہونا ہے۔‘

سمیع یوسفزئی کہتے ہیں: ’نہ صرف معمول کے راستے بلکہ دشوار گزار راستوں پر بھی شدت پسند باآسانی آتے جاتے رہے ہیں۔ روس کے وقت ان راستوں کو طاقت کے ذریعے بند کرنے کی بہت کوششیں کی گئی تھیں لیکن وہ اس وقت بھی ناکام ثابت ہوئیں اور آج بھی۔‘

شمالی وزیرستان میں مئی سنہ 2002 میں جلال الدین حقانی کے ایک مدرسے پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی یہاں کی پہلی کارروائی تھی۔

شمالی وزیرستان میں اس کے بعد بھی فوجی کارروائیاں ہوئیں لیکن آخری اطلاعات تک جلال الدین کا حقانی نیٹ ورک یہیں کہیں سرگرم رہا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سے سب سے آسان زمینی راستہ بھی غلام خان سرحدی چوکی ہے جو بنوں سے 130 کلومیٹر دور ہے۔

یہ تاجروں اور خانہ بدوش کے علاوہ شدت پسندوں کے لیے بھی آسان راستہ ثابت ہوا ہے۔

قبائلی صحافی گوہر محسود کہتے ہیں: ’شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا اس کے تحت فوج طالبان اور عسکریت پسند فوج پر حملے نہیں کریں گے۔ جنوبی وزیرستان میں گذشتہ فوجی کارروائی کی وجہ سے شدت پسند شمالی وزیرستان منتقل ہو گئے تھے۔ اس علاقے میں فوج سے زیادہ انھیں امریکی ڈرون حملوں سے خطرہ رہتا تھا۔‘

شمالی وزیرستان ہی تمام قبائلی علاقوں میں وہ علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ امریکی ڈرون حملے اور اس کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

گوہر محسود کہتے ہیں: ’میران شاہ جیسے بڑے کاروباری مرکز میں عسکریت پسندوں کی ہر ضرورت پوری ہوتی تھی۔ انٹرنیٹ، اسلحہ اور خوراک بھی یہاں باآسانی دستیاب تھی۔‘

شمالی وزیرستان کی سرحدیں تو نہ ازبکستان اور نہ کسی عرب ملک سے ملتی ہیں، تو پھر یہاں یہ غیرملکی کیسے آئے؟

سمیع یوسفزئی کہتے ہیں: ’یہ تمام پرانے وقتوں کے آئے ہوئے ازبک اور دیگر غیر ملکی ہیں۔ یہ ابتدا میں اتنے شدت پسند نہیں تھے اور محض اپنے ملک کی حکومتوں کی وجہ سے نقل مکانی کرنے افغانستان سے یہاں آئے لیکن بعد میں بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے مضبوط ترین ساتھی ثابت ہوئے۔‘

شدت پسندوں کے لیے تو بظاہر شمالی وزیرستان خاصا موزوں رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب فوج کے نقطۂ نظر سے یہاں کارروائی کتنی آسان ثابت ہوسکتی ہے؟

اسی بارے میں