شمالی وزیرستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملے جاری

پاکستان کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب میں 25 غیر ملکی اور مقامی شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ ان کی کمین گاہوں، ٹرینگ کیمپوں اور بارودی سرنگوں کی فیکٹری بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل جوسف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے جاری آپریشن کے پیشِ نظر پاک افغان سرحد پر نگرانی بڑھا دی ہے۔

آپریشن ضربِ عضب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے کی فضائی نگرانی بھی جاری ہے

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب میں 25 غیر ملکی اور مقامی شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جب کہ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کی کمین گاہوں، ٹریننگ کیمپوں اور بارودی سرنگوں کی فیکٹری بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ منگل کی صبح شمالی وزیرستان کے علاقے حسوخیل میں فضائی کارروائی کی گئی۔

آپریشن میں عسکریت پسندوں کی تربیت گاہوں سمیت چھ سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت جاری ہے۔ میر علی اور میران شاہ کے قصبوں سمیت شدت پسندوں کے تمام ٹھکانوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے رات کو میران شاہ سے فرار کی کوشش کرنے والے تین سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس کارروائی میں چند سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

حکام کے مطابق فوجی کارروائی آبادیوں میں نہیں ہو رہی اور تصدیق کے بعد تمام معصوم شہریوں کا محفوظ انخلا ہو گیا ہے، جب کہ آرمی کے دستوں کی تعیناتی کے ذریعے بےگھر ہونے والے افراد کے کیمپوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ علاقے کی فضائی نگرانی بھی جاری ہے۔

اس دوران پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں حساس مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، فوجی دستے مستعد ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر رہے ہیں۔ بیان کے مطابق فوجی دستے شہری انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون قائم رکھے ہوئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے کے نتیجے میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ اتوار سے شروع ہونے والے آپریشن میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو یہ پہلا جانی نقصان ہوا ہے۔

دیر سے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور سات شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں سات شدت پسند اور دو فوجی ہلاک ہوئے۔

شمالی وزیرستان ایجنسی کے علاقے شوال میں جیٹ طیاروں نے شدت پسندوں کے چھ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جن میں مزید 27 شدت پسند مارے گئے ہیں۔ بیان کے مطابق اس علاقے میں کوئی شہری آبادی نہیں تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اتوار کو ہونے والے کامیاب حملوں میں مجموعی طور پر 140 شدت پسند مارے گئے ہیں، جن میں اکثریت ازبک باشندوں کی ہے۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں دہشت گروں کے ایک بڑے رابطہ مرکز کو تباہ کیا گیا ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن منصوبے کے مطابق چل رہا ہے اور تاحال کسی بھی شہری آبادی والے علاقے میں حملے نہیں کیے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی دستوں نے شدت پسندوں کے تمام ٹھکانوں کا گھیراؤ کر لیا ہے جن میں میر علی اور میران شاہ کے قصبے شامل ہیں۔ فرار ہونے کی کوشش کرنے والے سات عسکریت پسندوں کو گذشتہ رات میر علی کے نواح میں ہلاک کیا گیا۔

بیان کے مطابق میر علی میں فائرنگ کے تبادلے میں تین فوجی اہلکار زحمی ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس وقت شمالی وزیرستان ایجنسی سے شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے فوج تعینات کر کے دیگر ایجنسیوں اور قبائلی علاقوں سے رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایجنسی کے اندر فوج نےشدت پسندوں کے تمام ٹھکانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے جن میں میر علی اور میران شاہ کے قصبے شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ایجنسی سے مطابق مقامی آبادی کےمنظم اور باوقار انخلا کے لیے مختص مقامات کے بارے میں اعلان کیا جائے گا۔ سیاسی انتظامیہ اور ڈزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے بےگھر ہونے والے افراد کے لیے نقل و حرکت کے انتظامات کر رکھے ہیں۔

افغان سکیورٹی فورسز یعنی افغان نیشنل آرمی اور افغان بارڈر پولیس سے بھی دوسری جانب سرحد بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ شدت پسند سرحد پار فرار نہ ہو سکیں۔ انھیں نورستان صوبے میں کنڑ میں ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں اور ان کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

طالبان کا ردِ عمل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاہد اللہ شاہد کا الزام تھا کہ حکومت پاکستان اور فوج نے پاکستانی عوام کی امن کی خواہش کو خاک میں ملا دیا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے بی بی سی کو ای میل پر بھیجے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر غیر ملکی ادارے اپنے معاملات معطل کر کے پاکستان سے نہیں جاتے تو وہ اپنے نقصان کے ذمہ دار خود ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے: ’یہ بات سبھی پر واضح ہے کہ تماری سرگرمیوں اور تجارت سےحاصل ہونے والا سرمایہ مظلوم قبائلی عورتوں اور بچوں پر آتش و آہن بن کر گرتا ہے، تحریک طالبان پاکستان پاکستانی مسلمانوں کی تباہی کے ذمہ دار ایسے کسی بھی ادارے کو ہرگز معاف نہیں کرےگی۔‘

تاہم بیان میں اتوار سے جاری فوجی کارروائیوں کے دوران کسی جانی یا مالی نقصانات کے بارے میں تحریک کے ترجمان نے کوئی بات نہیں کی۔ ترجمان کا الزام تھا کہ حکومت پاکستان اور فوج نے پاکستانی عوام کی امن کی خواہش کو خاک میں ملا دیا ہے اور مغربی اشارے پر شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب کے نام سے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ اس اعلان کے بعد اب وہ اور حکومت پاکستان پورے ملک میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے اچانک کارروائی کے آغاز سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے نہ صرف تحریک طالبان بلکہ حافظ گل بہادر گروپ، حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کے غیر ملکی عناصر سب کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سخت سکیورٹی اقدامات

Image caption کراچی میں گذشتہ دنوں شدت پسندوں نے ایئرپورٹ پر حملہ کیا تھا

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائی کے آغاز کے بعد ملک کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں حساس مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

ملک کے صوبہ سندھ کی حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ کے ترجمان کے مطابق ملیر چھاؤنی سے فوجی دستے روانہ کر دیے گئے ہیں اور فوجی اہم قومی تنصیبات اور حساس مقامات پر تعینات کیے جائیں گے۔

اس سے پہلے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت امن امان کے بارے میں اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں پولیس حکام کے علاوہ ڈی جی رینجرز اور کور کمانڈر نے بھی شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعلیٰ کو شہر کی صورتحال اور خدشات کے بارے میں انٹلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر آگاہی دی گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے آپریشن’ضربِ عضب‘ کے آغاز کے بعد پنجاب میں سلامتی کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ لاہور کے کور کمانڈر اور ڈی جی رینجر پنجاب نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مقصد حصول کے لیے پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

اسی بارے میں