’امریکہ نے پاک افغان سرحد پر نگرانی بڑھا دی ہے‘

Image caption جنرل ڈنفورڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان اس فوجی آپریشن میں مل کر کام نہیں کر رہے

امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے جاری آپریشن کے پیشِ نظر پاک افغان سرحد پر نگرانی بڑھا دی ہے۔

یہ بات افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے خبر رساں ادارے اے پی کو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔

جنرل ڈنفورڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان اس فوجی آپریشن میں مل کر کام نہیں کر رہے تاہم امریکی فوج اور افغان فوج کے درمیان انٹیلی جنس کے تبادلے میں اضافہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں افغان فورسز اور امریکی فوجی آپریشن کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں جس میں دہشت گردوں کے افغانستان میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی اور افغان سربراہانِ مملکت نے دونوں ممالک کے سرحدی علاقے پر واقع قبائلی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی جانب سے جاری آپریشن کے حوالے سے بات چیت بھی کی ہے۔

پاکستانی وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی نے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے دوسرے روز فون پر بات چیت کی۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اب تک اس آپریشن میں 170 شدت پسند اور کم از کم چھ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کل تک آپریشن کے بارے میں مختلف آرا ہو سکتی تھیں، لیکن اب یہ باب بند ہو جانا چاہیے: نواز شریف

ادھر پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے اتوار کے روز کہا تھا کہ آپریشن کے حوالے سے پڑوسی ملک افغانستان سے بھی رابطے کیے گئے ہیں اور ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ بھاگ جانے والے شدت پسندوں کا افغانستان میں خیر مقدم کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ قبائلی علاقے میں پاکستان افغان سرحد پر شدت پسندوں کی آمد و رفت دونوں ممالک میں سکیورٹی حکام کے لیے اہم مسئلہ رہی ہے اور ماضی میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے والی تحریکِ طالبان پاکستان کو افغان صوبے کنڑ میں پناہ گاہیں حاصل ہیں جبکہ افغان حکام کئی بار پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے افغانستان میں طالبان عناصر کی پشت پناہی کا الزام لگا چکے ہیں۔

پیر کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے امن کو پہلی ترجیح دینے کا فیصلہ کیا لیکن ہماری ہر کوشش کو ناکام بنایا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی اور طویل مذاکراتی عمل کے ہر مرحلے میں سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان مشاورت کا عمل جاری رہا ۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ہی طالبان کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ہوائی اڈّے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکاروں سمیت کم سے کم 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نواز شریف نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ’تمام فیصلے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کیے گئے۔ کراچی حملے کے بعد فیصلہ کن آپریشن کا فیصلہ بھی باہمی مشاورت سے کیا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چند روز قبل ہی طالبان کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ہوائی اڈّے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکاروں سمیت کم سے کم 23 افراد ہلاک ہوئے

’کل تک آپریشن کے بارے میں مختلف آرا ہو سکتی تھیں، لیکن اب یہ باب بند ہو جانا چاہیے۔ اب سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو فوج کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں علمائے کرام سے اپیل کرتا ہوں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عوام کی رہنمائی کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا جانتی ہے کہ ہم نے ہزاروں قربانیوں کے باوجود مذاکرات کا راستہ اپنایا۔‘

پاکستان کی موجودہ حکومت نے گذشتہ سال مئی میں اقتدار میں آنے کے بعد غیرقانونی شدت پسند تنظیم تحریک طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ اس کے بعد ستمبر میں کل جماعتی کانفرنس میں حکومت کو طالبان سے مذاکرات کا اختیار مل گیا تھا۔

طالبان سے مذاکرات کے لیے دو بار الگ الگ کمیٹیاں بنائی گئی اور ایک بار طالبان کی جانب سے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان بھی کیا گیا تاہم اس دوران شدت پسندی کے واقعات جاری رہے جس کی وجہ سے حکومت پر طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھتا رہا۔

اسی بارے میں