’وزیر اعظم سیکریٹیریٹ کی ہدایت پر تحقیقات کا آغاز کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ 26 جون سنہ 2013 کو وزیر اعظم سیکریٹیریٹ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا تھا جس میں پرویز مشرف کے خلاف تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کارروائی کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا

پاکستان کی وفاقی حکومت کے سیکریٹری داخلہ شاہد حسن خان نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں خصوصی عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کے خلاف وزیر اعظم سیکریٹیریٹ کی ہدایت پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر کے خلاف پانچ الزامات میں تحقیقات شروع کی گئیں ہیں جن میں ملک میں ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم نامے یعنی پی سی او کا نفاذ، پی سی او کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے حلف لینے اور ملکی آئین میں ترامیم کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔

بدھ کے روز اس مقدمے کے شکایت کندہ شاہد حسن خان نے سماعت کے دوران کہا کہ وہ عدالت میں اصل دستاویزات پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

یاد رہے کہ خصوصی عدالت نے منگل کے روز سیکریٹری داخلہ کو محض اس لیے بیان دینے سے روک دیا تھا کہ اُن کے پاس اصل دستاویزات نہیں تھیں۔

سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ 26 جون سنہ 2013 کو وزیر اعظم سیکریٹیریٹ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا تھا جس میں پرویز مشرف کے خلاف تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کارروائی کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ وہ خط کہاں ہے، جس پر سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ خط شاید سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا گیا ہے۔ تاہم اُنھوں نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ اس خط کی تصدیق شدہ کاپی عدالت میں جمع کر دی جائے گی۔

سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ اس خط کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے کے افسران پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی جس نے مذکورہ الزامات کے بارے میں تفتیش کی۔

شاہد حسن کا کہنا تھا کہ اس تفتیش سے متعلق وزارت قانون سے بھی رائے لی گئی اور اُن کے بقول ایسے ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ملزم کو مجرم گردانا جا سکتا ہے۔

سیکریٹری داخلہ نے عدالت میں دستاویزات بھی جمع کروائیں۔ ملزم پرویز مشرف کے وکیل 24 جون کو سیکریٹری داخلہ پر جرح کریں گے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو 23 جون سے اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ ملزم پرویز مشرف کے خلاف غداری سمیت دیگر اہم مقدمات درج ہیں اور ایسے حالات میں ملزم کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور اُنھیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسی بارے میں