’بہتر تھا سارے وزیرستان پر ایٹم بم گراتے اور قصہ تمام کرتے‘

Image caption پیاس اور تھکن کی وجہ سے گاڑیوں میں سفر کرنے والے ننھے منے متاثرین بچوں کے چہروں پر پریشانی اور مایوسی کے آثار نمایاں تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن سے بے گھر ہونے والے افراد کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کاروائیاں کی ابتدا ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک کے زیادہ تر علاقے شدیدگرمی کی لپیٹ میں ہیں۔

اس کے علاوہ رمضان کی بھی آمد آمد ہے جس سے آنے والے دنوں میں متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں چار روز قبل شروع ہونے والے فوجی آپریشن ضربِ عضب کے دوران پہلی مرتبہ کرفیو میں نرمی کی گئی جس کے ساتھ ہی میرعلی کے علاقے سے سینکڑوں خاندانوں نے محفوظ مقامات کی جانب رخ کیا۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق مقامی افراد کو علاقے سے نکالنے کے لیے مرحلہ وار پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت مختلف مقامات سے لوگوں کا انخلا مکمل کرایا جائے گا۔

بنوں میران شاہ سڑک بدھ کی صبح سے لے کر شام تک سارا دن متاثرین کی گاڑیوں کے رش کے باعث کسی جلوس کا منظر پیش کرتی رہی اور اس دوران نقل مکانی کرنے والے افراد ٹرکوں، ٹریکٹروں، ہائی ایس گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر خواتین اور بچوں سمیت قافلوں کی صورت میں وقفے وقفے سے بنوں پہنچتے رہے۔

کئی افراد گاڑیوں کی عدم دستیابی یا غربت کی وجہ سے پیدل وزیرستان سے قریبی علاقوں میں منتقل ہوئے اور ان کے ہمراہ بچے اور خواتین بھی تھیں۔

کئی گاڑیوں میں متاثرین کے ہمراہ ان کے مال مویشی بھی دکھائی دیے۔ دوپہر کے وقت تک شدید گرمی اور تپتی دھوپ میں ہر دوسری گاڑی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار نظر آئے۔ پیاس اور تھکن کی وجہ سے گاڑیوں میں سفر کرنے والے ننھے منے متاثرین بچوں کے چہروں پر پریشانی اور مایوسی کے آثار بھی نمایاں تھے۔

آپریشن کے مارے ہوئے کئی قبائلی جگہ نہ ہونے کے باعث گاڑیوں کی چھتوں اور ڈکیوں میں بھی سفر کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

میرعلی کے ایک نوجوان محمد منصور موٹر سائیکل پر چار بچوں کو بٹھائے بنوں کی طرف جاتے ہوئے نظر آئے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ اتنے خطرناک طریقے سے کس طرح بچوں کو بائیک پر سوار کر کے جارہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ چار دن سے ان کا تمام خاندان کرفیو کی وجہ سے گھر کے اندر محصور تھا اور اس دوران وہاں صرف جیٹ طیاروں کی بمباری، توپ بردار ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ اور توپ خانے کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔

’ہم جان بچا کر علاقے سے نکلے ہیں،گاڑیوں میں اور جگہ نہیں تھی تو میں نے ان بچوں کو بائیک پر سوار کر کے یہاں پہنچایا ہے۔‘

میرعلی سے بے گھر ہونے والے اکثریتی قبائلی خاندان بنوں، کرک، کوہاٹ، ڈیرہ اسمٰعیل خان اور ملک کے دیگر شہروں کا رخ کر رہے ہیں جہاں وہ اپنے طور پر کرائے کے مکانات، رشتہ داروں اور دوستوں عزیزوں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

میرعلی کے ایک اور رہائیشی محمد نیاز نے بتایا کہ ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ آپریشن کا مرکزی ہدف صرف غیر ملکی اور طالبان شدت پسند ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر علاقوں میں عام شہریوں کے مکانات بھی نشانہ بنے ہیں اور ان کے کافی نقصانات بھی ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ کرفیو کے دوران قیامت جیسا منظر تھا، تمام بازار اور تجارتی مراکز بند رہے جس کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی شدید قلت رہی۔‘

ان کے مطابق ’اس سے بہتر تھا کہ ایک ہی وقت میں سارے وزیرستان پر ایٹم بم گرایا جاتا اور اس طرح قصہ ہی ختم ہو جاتا اور حکومت کی خواہش بھی پوری ہو جاتی۔‘

شمالی وزیرستان سے بنوں تک تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر محیط سڑک پر حکومت کی طرف سے متاثرین کے لیے کسی قسم کا کوئی ریلیف کیمپ یا فوڈ پوائنٹ نظر نہیں آیا۔ تاہم بنوں میران شاہ سڑک پر الخدمت فاونڈیشن اور مقامی افراد کی طرف سے بعض مقامات پر چھوٹے چھوٹے کیمپ بنائے گئے ہیں جہاں بے گھر افراد کے لیے شربت اور ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کےلیے نیم خود مختار قبائلی ایف آر بکاخیل کے علاقے میں ایک متاثرین کیمپ قائم کیا گیا ہے تاہم سہولیات کی کمی کے باعث وہاں ابھی تک کوئی متاثرہ خاندان نہیں جا سکا ہے۔

اس کیمپ تک ابھی تک میڈیا کو بھی رسائی نہیں دی گئی ہے۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں کیمپ بنایا گیا ہے وہ علاقہ سانپ اور بچھوؤں کےلیے مشہور ہے اس وجہ سے وہاں کوئی نہیں جائے گا اور نہ وہاں سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ ضلع بنوں کی حدود میں حکومت کی جانب سے تاحال متاثرین کے رہنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ہے۔

تاہم دوسری طرف اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے متاثرین کیمپوں میں رہتے ہیں یا انھیں امداد دی جائے گی۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم کے ڈائر یکٹر جنرل طاہر اورکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے مرکز اور صوبے کی طرف سے الگ الگ طور پر امداد کا اعلان کیاگیا ہے جس کے تحت ان کو امدادی رقوم ملیں گی۔

انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ حکومت کی طرف سے امداد دینے کے لیے ایسا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس میں کسی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوسکتی لہٰذا متاثرین کو رقوم نہ ملنے کے سلسلے میں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں