’ڈرون حملوں کا فوجی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈرون حملوں کی مذمت کرتا ہے

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بدھ کو ہونے والے ڈرون حملے کا شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈرون حملوں کی مذمت کرتا ہے اور اس سلسلے میں عالمی سطح پر عوامی رائے ہموار کرنے کے لیے ان حملوں کے خلاف کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے عالمی قوانین کے خلاف ہیں۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فضل اللہ کا مسئلہ افغانستان سے اٹھایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

ترجمان نے کہا دونوں مملک مل کر ہی انتہا پسندی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

بریفنگ کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان حکام نے پاکستان کو ہر قسم کی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا وزیر اعظم پاکستان نے افغان صدر حامد کرزئی سے اور پاکستانی فوج کے سربراہ نے افغان فوج سے رابطے کیے ہیں اور زور دیا ہے کہ سرحدوں کی نگرانی کو بہتر بنایا جائے تاکہ پاکستان کا شمالی وزیرستان میں آپریشن موثر ثابت ہو سکے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں خبریں چل رہی ہیں کہ وزیر اعظم کے مشیر خارجہ طارق فاطمی نے کینیڈا کے ہائی کمشنر کو بلا کر طاہر القادری کو پاکستان آنے سے روکنے سے متعلق بات کی ہے، لیکن طارق فاطمی اس وقت وزیر اعظم کے ساتھ دورے پر تاجکستان پر گئے ہیں اس لیے اس سلسلے میں پاس کوئی تفصیلات نہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس اور پاکستان کے تعلقات بہتر ہیں اور مثبت طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستانی مشیر خارجہ روس کے دورے کے دوران اپنے ہم منصب سے ملاقات کریں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے اور خطے کے امور سے متعلق بات چیت ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں تسنیم اسلم نے کہا: ’مجھے پاکستانی سرزمین پر کسی تاجک انتہا پسند کی موجودگی کا علم نہیں۔‘

دفتر خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ چین میں 281 پاکستانی قیدی موجود ہیں جن میں سے 90 قیدی منشیات اور غیر قانونی قیام کے جرم میں قید ہیں جبکہ ایک پر قتل کا الزام ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ دفتر خارجہ نے عراقی سفیر سے رابطہ کیا ہے اور وہاں کسی پاکستانی کے مشکل میں ہونے یا اغوا ہونے سے متعلق کوئی خبر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا پاکستانی عراق میں ان علاقوں میں موجود نہیں ہیں جہاں شورش جاری ہے۔

اسی بارے میں