’اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس بنائی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption عدالت نے یہ از خود نوٹس پشاور میں ایک گرجا گھر پر ہونے والے خودکش حملوں کے علاوہ چترال میں کیلاش اور اسماعیلی فرقے کو دھمکیاں ملنے کے واقعات پر لیا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی پولیس فورس تیار کی جائے۔

سپریم کورٹ نے ملک میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق از خود نوٹس پر فیصلہ سُناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی کونسل بھی تشکیل دے جو پاکستان کے آئین میں اقلیتوں سے متعلق دیے گئے حقوق پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

اس کونسل کو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے تجاویز دینے کا بھی اختیار ہوگا۔

’توہینِ مذہب کا قانون ہر مذہب پر لاگو ہوتا ہے‘

عدالت نے یہ از خود نوٹس پشاور میں ایک گرجا گھر پر ہونے والے خودکش حملوں کے علاوہ چترال میں کیلاش اور اسماعیلی فرقے کو دھمکیاں ملنے کے واقعات پر لیا تھا۔

چترال میں کیلاش اور اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو دھمکیاں دی جارہی تھیں کہ وہ اسلام قبول کریں ورنہ مرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

اس از خود نوٹس سے متعلق دیے گئے فیصلے میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی بھگا کر لے جانے اور اُنھیں اسلام قبول کروانے کا بھی دکر کیا گیا ہے۔ اس نوٹس کی سماعت کے دوران ہندوں کی شادیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا تاہم نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے حکام نے عدالت عظمیٰ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ہندوں کی شادیوں کی رجسٹریشن کا عمل جلد شروع کردیا جائے گا۔

نادرا حکام کے مطابق ہندوں کی شادیوں کی رجسٹریشن کا عمل اب شروع کردیا گیا ہے۔

Image caption پاکستان کے صوبہ سندھ میں ہندو برادری کو اکثر مختلف سماجی حوالے سے بھی نشانہ بنایا گیا ہے

فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص صوبہ سندھ میں ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا اور اس ضمن میں مقدمات تو درج ہوئے لیکن کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایسے افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا ہے جو سوشل میڈیا پر اقلیتوں یا مذہب کے بارے میں نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہیں۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ اسلام کے مطابق کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے رنگ پر کوئی فوقیت نہیں ہے اور اسلام میں تمام انسان برابر ہیں۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اس از خود نوٹس پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ وفاق اور صوبوں میں نوکریوں کے حوالے سے اقلیتوں کے کوٹے پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پشاور میں سکھوں کا گردوارہ جہاں بچوں امتحانات بھی ہوتے ہیں

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومت ملک میں مذہبی رواداری کو فروغ دینے کے لیے ٹاسک فورس بنانے کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے تعلیمی نصاب میں ایسی چیزیں شامل کرے جن سے ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

یاد رہے کہ اس سال اپریل میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر رکھا ہے جہاں اقلیتوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ اور مذہبی قتل و غارت میں اضافہ ہوا ہے۔

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے 2014 کی رپورٹ میں کہا ہے: ’بین الاقوامی میڈیا کی زیادہ توجہ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ حکومتی تصادم کی جانب ہے۔ اور اس وجہ سے پاکستان میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو لاحق خطرات پر سے توجہ ہٹ گئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پشاور میں سکھوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے ’طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی پاکستان میں اہلِ تشیع اور بالخصوص ہزارہ برادری کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ احمدیوں اور عیسائیوں کے خلاف بھی پرتشدد کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مارک لیٹیمر نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ’پاکستان اور برما میں لسانی اور فرقہ وارانہ تشدد بڑا مسئلہ ہے اور ان دو ممالک میں حکومتیں اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں۔‘

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 میں اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان پانچویں نمبر پر تھا جبکہ 2012 میں پاکستان چھٹے نمبر پر تھا۔

اسی بارے میں