خیبر پختونخوا: حملوں میں پولیس اہلکاروں سمیت چار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پشاور میں دن دہاڑے پولیس اہلکاروں پر حملوں کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر سے تیزی آ رہی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور طالبان مخالف لشکر کے رضاکاروں پر ہونے والے الگ الگ حملوں پولیس انسپکٹر سمیت چار افراد ہلاک اور سات چار زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور پولیس کے مطابق پہلا حملہ جمعے کی صبح پشاور کے گنجان آباد علاقے پجگی روڈ پر اس وقت پیش آیا جب دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے دن دہاڑے ٹریفک پولیس انسپکٹر پر پستول سے فائرنگ کر دی۔ انھوں نے کہا کہ حملے میں پولیس انسپکٹر عبدالستار موقعے ہی پر ہلاک ہو گئے تاہم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ان کے مطابق پولیس انسپکٹر ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ اس دوران ان پر حملہ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار کو سر میں گولیاں ماری گئی ہیں۔

یاد رہے کہ پشاور میں دن دہاڑے پولیس اہلکاروں پر حملوں کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر سے تیزی آ رہی ہے۔ اس سے چند ماہ قبل بھی پشاور کے گنجان آباد علاقوں میں پولیس اہلکاروں پر اس قسم کے متعدد حملے کیے گئے تھے جس میں ایک درجن کے قریب اہلکار مارے گئے تھے۔ تاہم بعد میں اعلیٰ پولیس اہلکاروں کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پولیس پر حملوں میں ملوث گینگ کو پولیس مقابلوں کے دوران ختم کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع تورغر میں پولیس موبائل پر ہونے والے بم حملے میں دو اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک لیوی اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔ تھانے کے محرر غلام شبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ تھانہ دربنی کی حدود میں پولیس موبائل کو مچھرا کے مقام پر اس وقت ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جب وہ پولیس نفری کو چھوڑ کر واپس آ رہی تھی۔

Image caption تورغر میں ہی جمعرات کو بھی ایک پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور پولیس اہلکاروں کو رسیوں سے باندھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس چوکی کو بموں سے اڑا دیا تھا

ان کے مطابق حملے میں دو اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے پولیس کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی اس علاقے میں ایک پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور چوکی میں موجود چار پولیس اہلکاروں کو رسیوں سے باندھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس چوکی کو بموں سے اڑا دیا تھا جبکہ چوکی سے تمام اسلحہ بھی اپنے ساتھ لےگئے تھے۔

اس سے پہلے پشاور کے مضافاتی علاقے متنی ادیزئی میں طالبان مخالف لشکر کے سربراہ کے حجرے پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

متنی پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی رات اس وقت ہوا جب مبینہ خودکش حملہ آور نے آدیزئی کے علاقے میں واقع حکومتی حامی لشکر کے افراد کے حجرے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ حملے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ تاہم حملے میں لشکر کے سربراہ محفوظ رہے۔

خیال رہے کہ متنی میں طالبان مخالف لشکر کے افراد اور ان کے حجروں پر پہلے بھی متعدد مرتبہ حملے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری طالبان تنطیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں