’شمالی وزیرستان کے عمائدین کا ضربِ عضب کی مکمل حمایت کا اعلان‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ کو بتایا گیا کہ غیر ملکی شدت پسند نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ بنے ہوئے تھے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے عمائدین نے فوجی آپریشن کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہی۔

انھوں نے ٹویٹ میں کہا مزید کہا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ، میر علی اور دتہ خیل کے عمائدین نے فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق عمائدین نے اعادہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کو دوبارہ شمالی وزیرستان میں آنے نہیں دیں گے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ’ضرب عضب‘ کی تازہ صورتحال جاننے کے لیے جمعہ کو صوبائی دارالحکومت پشاور کا مختصر دورہ کیا۔

اس دورے میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف اور سافرون کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ادھر آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق میران شاہ کے نواحی علاقے قطب خیل میں فوجی کارروائی میں دہشتگردوں کے تین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں غیر ملکیوں سمیت 12 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔

اس کے علاوہ فوج کی جانب سے محاصرے میں لیے گئے علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے 3 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مختلف چوکیوں سے 24 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کور ہیڈ کوارٹر پشاور کا دورہ کیا جہاں انھیں شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک ہونے والی کارروائیوں میں دو سو سے زائد عسکریت پسند مارے گئے ہیں جبکہ ان کے درجنوں ٹھکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان کے علاقوں میران شاہ اور میر علی میں شدت پسندوں کے خلاف گھیرا تنگ کیاجا رہا ہے اور ان کے فرار کے راستوں کے ساتھ ساتھ ان کو رسد پہنچانے کے تمام راستے بھی بند کردیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بریفنگ میں وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ کو بتایا گیا کہ غیر ملکی شدت پسند نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ بنے ہوئے تھے اور ان نیٹ ورک کو بیرونی ممالک سے امداد مل رہی تھی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ فوج کو آپریشن ضرب عضب میں تمام وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

ان کے مطابق قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور قوم اس جنگ میں ہر مشکل کو عبور کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ آپریشن کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی جبکہ ان کے تحفظ کو بھی یقینی بنایاجائے گا۔

بریفنگ میں گورنر خیبر پختون خوا اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بھی شرکت کی۔ بعد میں وزیراعظم نے کور ہیڈ کوارٹر میں واقع شہدا کی یاد گار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائے۔

اسی بارے میں