ضربِ عضب پر رائے عامہ منقسم، میڈیا خبر کی تلاش میں گم، اہداف مبہم

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب پر بی بی سی اردو سروس کی خصوصی رپورٹ میں اس پہلو پر نظر ڈالی گئی ہے کہ فوجی آپریشن کے آغاز کے ایک ہفتے بعد بھی ملک میں رائے عامہ متحد ہونے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ منقسم نظر آتی ہے، یہ آپریشن کس کے خلاف کیا جا رہا ہے؟ اور کیوں آزاد خبر تک میڈیا کی مسلسل رسائی ضروری ہے؟

منقسم رائے عامہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے پہلے ہی ہفتے میں پاکستان میں رائے عامہ ہموار کرنے والے اور اس کی عکاسی کرنے والے تمام سیاسی و معاشرتی ادارے یا حلقے متحد ہونے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ منقسم نظر آتے ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق پاکستان اس وقت باقاعدہ حالت جنگ میں ہے لیکن اس کا احساس نہ تو آپ کو سڑکوں اور بازاروں میں ہوتا ہے، نہ میڈیا پر اور نہ ہی ملک میں تسلسل سے جاری سیاسی بحث مباحثوں میں۔

آج سے سات سال قبل جب جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستانی فوج کی کمان سنبھالی تو انھوں نے صحافیوں کے ایک گروہ سے اپنی پہلی غیر رسمی بات چیت میں کہا تھا کہ انتہا پسندوں کے خلاف کوئی بھی حتمی کارروائی شروع کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی اور عوامی اتفاق رائے کا فقدان ہے۔ اس وقت ان کا اصرار تھا کہ میڈیا کو یہ اتفاق رائے پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

میڈیا کے رول پر ہمارے ساتھی وسعت اللہ خان کی تحریر بھی اسی کہانی کا ایک حصہ ہے۔ اسے پڑھ کر آپ کو اس حقیقت کا اندازہ ہو گا کہ سات سال بعد بھی وہ اتفاق رائے کہیں نظر نہیں آتا باوجود اس کے کہ فوج نے باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔ ملکی سرزمین کے اندر کسی بھی قسم کے دشمن کے خلاف ملکی فضائیہ کے اس تسلسل سے اور اس پیمانے پر استعمال کی اور کوئی حالیہ مثال نہیں ہے۔

لیکن ابھی تک آپریشن ضرب عضب نہ تو سڑکوں پر موضوع بحث بن سکا ہے اور نہ ہی نجی محفلوں میں۔

اس کا اندازہ وزیراعظم نواز شریف کی جمعے کو کی جانے والی تقریر سے بھی ہوتا ہے جس میں انھیں اپنے سیاسی حریفوں کو ان کے تعاون اور حمایت کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے تنبیہ کرنی پڑی کہ ان کی مخالف سیاسی جماعتیں ان کی ٹانگ کھینچنے کی بجائے ان کی مدد کریں۔

اس سے کچھ روز پہلے، جب انھوں نے آپریشن ضرب عضب کا باقاعدہ اعلان کیا تو وہ ایک لکھی ہوئی تقریر کے ذریعے کیا جس میں ہر کسی کو ایک پریشان وزیراعظم تو دکھائی دیا لیکن کسی کو وہ رہنما نظر نہیں آیا جو ایک ملک کو جنگ کے میدان سے گزار کر فتح کے مقام تک پہنچائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption وزیراعظم کو آپریشن شروع ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں تنبیہ کرنی پڑی کہ ان کی مخالف سیاسی جماعتیں ان کی ٹانگ کھینچنے کی بجائے ان کی مدد کریں

جب وہ پہلی بار وزیر اعظم بنے تو ان کے دور کے اوائل میں ہی ان کی ٹوکیو میں جاپانی وزیراعظم سے ایک طے شدہ ملاقات تھی۔ لیکن اس سے چند روز قبل ہی لاہور کے ایک ہی محلے میں ایک خاندان کے آٹھ لوگوں کو رات کو سوتے میں بےدردی سے قتل کر دیا گیا۔ انھوں نے اس واردات کی وجہ سے وہ دورہ منسوخ کر دیا۔

اس وقت ان کے ناقدین نے ان پر الزام لگایا کہ انھوں نے ناسمجھی کا ثبوت دیا، اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھا نہیں اور دنیا کے ایک مصروف ترین وزیراعظم سے پہلے سے طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی۔

آج ان کے ناقدین یہ کہہ رہے ہیں کہ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف تو اپنے غیر ملکی دورے منسوخ کر رہے ہیں لیکن وزیراعظم کو حالت جنگ میں ہونے کے باوجود اپنا انٹرنیشنل کیلنڈر بدلنے کا خیال نہ آیا۔

ملک میں اس جنگ پر عدم اتفاق کی یہ واحد مثال نہیں۔

عمران خان کا شکوہ ہے کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے انھیں اور خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا حالانکہ ہجرت کرنے والے متاثرین کی ذمہ داری انھیں ہی اٹھانی ہو گی۔

سندھ حکومت نے ایک بوکھلا دینے والا فیصلہ کیا ہے کہ وہ متاثرین کو کراچی میں پناہ گزین نہیں ہونے دے گی۔ یعنی حالات جنگ میں ایک ملک کے باسیوں پر ان کی اپنی زمین ہی تنگ پڑ گئی ہے۔

پنجاب حکومت نے قبائلی علاقوں میں جاری جنگ سے قطع نظر ایک ایسے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال لیا ہے جسے انتخابی معرکوں میں کبھی عوامی پذیرائی نہیں ملی۔ نتیجتاً آپریشن کے تیسرے اور چوتھے روز پاکستانی میڈیا کی تمام تر توجہ پنجاب پولیس کی بربریت یا پھر گلو بٹ کے کارناموں پر رہی۔

ہمیشہ کی طرح، بلوچ سیاستدان آپریشن ضرب عضب سے اتنے ہی لاتعلق نظر آئے جتنا کے وہ بتدریج پاکستان سے ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک ایسا ملک جس میں ہر بال کی کھال اتارنا قومی مشغلہ بن چکا ہو اور سیاسی تجزیہ ہر کسی کا دوسرا پیشہ، وہاں آپ کو شاذ ونادر ہی کوئی ضرب عضب کی بات کرتا ملتا ہے۔

حتیٰ کہ وہ فوج بھی جو اس جنگ میں پاکستان کے لیے مورچہ بند ہے۔ جب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہوا ہے، رسمی پریس ریلیزوں کے علاوہ حکومت یا فوج کے میڈیا مینجرز کی جانب سے ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آئی جس سے عوام میں یہ شعور بیدار ہو کہ اس کے وہ فوجی جوان جن کی محبت میں ایک زمانے میں دل موہ لینے والے ترانے لکھے جاتے ہیں آج ان کے سننے کی واحد آوازیں توپوں اور طیاروں کی گھن گرج ہے۔

اور ظاہر ہے ایسے میں سب سے اہم سوال پوچھنے کی کسی کو فرصت یا خواہش ہی نہیں کہ یہ جنگ اصل میں لڑی کس کے خلاف جا رہی ہے۔ ہمارے ساتھی ہارون رشید نے اسی کہانی کے سلسلے میں اس کا جائزہ لیا ہے۔

امریکہ پر آج سے 13 برس قبل حملہ ہوا تو وہ دن نائن الیون کہلایا۔ لندن پر 2007 میں حملہ ہوا تو اسے سات سات کا نام دیا گیا۔ بھارت کے شہر ممبئی پر 2008 میں حملہ ہوا تو وہ چھبیس گیارہ کے نام سے جانا گیا۔

یہ وہ تاریخیں ہیں جنھیں بنیاد بنا کر ان ملکوں نے اپنا مستقبل لکھنے کی ٹھانی اور آج وہ ان ملکوں کے شہریوں کے دل و دماغ پر نقش ہیں۔ لیکن کراچی ایئرپورٹ پر ہونے والا حملہ جو آپریشن ضرب عضب کا فوری باعث بنا، کیا پاکستان میں کسی کو اس کی تاریخ یاد ہے؟

حالانکہ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ اور اگر وہ یاد نہیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ آنے والا کل کیسا ہو گا، آج کی طرح منقسم یا ایک پرامن مستقبل کی قومی خواہش پر متحد۔

آپریشن میں کون نشانے پر؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کو کئی روز ہوگئے لیکن اب تک کے فوجی بیانات میں کہا جا رہا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے اکثر شدت پسند ازبک ہیں۔

اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ کارروائی محض ازبک اور پاکستانی عسکریت پسندوں کے خلاف ہے؟ القاعدہ سے منسلک عرب، افغان طالبان اور دیگر غیرملکی کیا اب بھی نشانے پر نہیں؟

یہ کارروائی غالباً پہلی مرتبہ ازبک شدت پسندوں کی تنظیم اسلامک موومنٹ آف ازبکستان یا آئی ایم یو کی جانب سے پاکستان میں کسی کارروائی کی ذمہ داری لینے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل مہران بیس اور دیگر حملوں میں بھی ازبک باشندوں کے شریک ہونے کی اطلاعات ملتی رہی ہیں لیکن کبھی آئی ایم یو نے خود اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔

شدت پسند حملوں میں غیر ملکی عنصر: ویڈیو

پاکستان فوج کی جانب سے 15 جون کو شمالی وزیرستان میں ’ضرب عضب‘ کے آغاز کے بعد تواتر سے فوج کی جانب سے جو جنگی تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں مارے جانے والوں میں اکثریت غیر ملکیوں خصوصا ازبک باشندوں کی بتائی جاتی ہے۔ باقی غیرملکی کون ہیں اس بارے میں فوج خاموش ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایک خطاب میں تاہم واضح کیا کہ کارروائی سب شدت پسندوں اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف ہے۔ اس سے یہ تاثر ملا کہ اس مرتبہ فوج اچھے اور برے طالبان میں فرق ختم کرنے میں سنجیدہ ہے۔

میڈیا کو شمالی وزیرستان تک رسائی حاصل نہیں جبکہ پاکستانی طالبان نے اپنے محض آٹھ سے دس لوگوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ چار روز کے کرفیو میں نرمی کے بعد بنوں پہنچنے والے قبائلی گولہ باری اور فائرنگ کی آوازیں سننے کی تصدیق کرتے ہیں لیکن کون مارا گیا کون نہیں، وہ بھی کچھ نہیں بتا سکتے۔

بنوں پہنچنے والوں میں نیاز محمد بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ابھی تک ہمیں نہیں پتہ کہ آپ (حکومت یا فوج) کیا کر رہے ہیں۔ اوپر سے جو بمباری ہوتی ہے کوئی کہتا ہے اتنے مرے ہیں کوئی کہتا ہے کہ اتنے مارے گئے۔ ہمیں نہیں معلوم، ہم نے اپنی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھا ہے کیونکہ ہم اپنے گھروں میں محصور تھے۔ باہر نکلنے کا کوئی انتظام نہیں ہے کہ ہم جاکر دیکھیں کہ اس مکان میں کون تھا۔‘

اس گتھی کو سلجھانے کے لیے میں نے پشاور میں سینیئر صحافی اسماعیل خان سے بات کی اور دریافت کیا کہ باقی غیرملکیوں کی ہلاکت کیوں تسلیم نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ شاید حکومت اور فوج کی کوشش ہے کہ ان کی موجودگی کی تصدیق نہ کریں: ’وہ کہتے ہیں کہ القاعدہ یا حقانی نیٹ ورک کا نام لینے سے ان کی اس علاقے میں موجودگی کی تصدیق ہو جائے گی۔ البتہ فوجی ذرائع یا خفیہ ایجنسیاں یہ مانتی ہیں کہ قبائلی علاقوں میں ہر قسم کا غیر ملکی موجود ہے۔‘

اسماعیل خان کا کہنا ہے کہ آئی ایم یو کے علاوہ یہ کارروائی بظاہر ایک اور عسکریت پسند تنظیم ای ٹی آئی ایم کے بھی خلاف ہے جس میں ازبک شامل ہیں۔ اس کی وجہ چین کی شکایت ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور جنرل راحیل دونوں کے دورۂ چین میں وہاں کے حکام نے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ حکومت ایک وقت میں ایک یا دو شدت پسند تنظیموں سے ہی ’پنگا‘ لینے کی متحمل ہوسکتی ہے۔ پہلے ہی پاکستانی طالبان شدید ردعمل کی دھمکیاں دے رہے ہیں، اس لیے سب پر ایک وقت میں ہاتھ ڈالنا خاصا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

تو پھر حافظ گل بہادر اور حقانی نیٹ ورک کے لوگ کہاں چلے گئے یا ابھی اسی علاقے میں فوج کے محاصرے میں ہیں؟ اسماعیل خان کہتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہاں سے نکل چکا ہے۔

’آپریشن سے پہلے ہی ہمیں اطلاعات ملنا شروع ہوگئی تھیں کہ حقانی نیٹ ورک کے لوگ فلاں جگہ چلے گئے ہیں۔ بدھ کو بھی جو ڈرون حملہ ہوا وہ حقانی گروپ کے ایک مدرسے کے قریب ہوا ہے۔ لیکن اگر وہ نکل گئے ہیں تو پھر اس کارروائی کا ماضی کے آپریشن کی طرح کوئی فائدہ نہیں۔‘

شمالی وزیرستان میں غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد کے بارے میں درست اعداد و شمار کسی کے پاس نہیں ہیں۔ سینیئر صحافی اسماعیل خان کہتے ہیں کہ وہاں القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک کے علاوہ کوئی دس بارہ غیرملکی شدت پسند تنظیمیں موجود ہیں: ’ازبک یقیناً اکثریت میں ہیں، اس کے علاوہ عرب ہیں، آزربائیجان کے کچھ لوگ ہیں۔ مجموعی شمار مختلف ایجنسیاں اعداد و شمار دیتی ہیں لیکن وہ ہیں ہزاروں میں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی وزیرستان میں غیرملکی جنگجوؤں کی تعداد کے بارے میں درست اعداد و شمار کسی کے پاس نہیں ہیں

اس ضمن میں پاکستانی پارلیمان بھی حکومت یا فوج سے کوئی زیادہ چبھتے سوال نہیں کر رہی۔ تحریک انصاف کے اسد عمر کہتے ہیں کہ وزیرستان میں ایسے لوگ بھی ہیں جن سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں اور ایسے بھی ہیں جن سے شدید خطرہ ہے: ’آپریشن کس کے خلاف ہے اس کا جواب تو حکومت ہی دے سکتی ہے۔‘

طالبان کے زیر عتاب عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما زاہد خان کہتے ہیں کہ اچھے اور برے طالبان میں تفریق ختم کرکے کارروائی سب کے خلاف کرنا ہوگی ورنہ فائدہ نہیں ہوگا۔

کراچی ہوائی اڈے پر حملے میں مارے جانے والے بعض ازبک تھے یا نہیں اس بارے میں ابھی تک حکومت نے واضح الفاظ میں کچھ نہیں کہا ہے۔

ان کی انٹرنیٹ پر گردش کرتی ہوئی تصاویر اور مرنے والوں کی شکلوں کو دیکھ کر کوئی واضح فیصلہ کرنا شاید اتنا مشکل نہ ہو۔ لیکن جس طرح اس میں ابہام موجود ہے اسی طرح شمالی وزیرستان میں تازہ کارروائی کا ہدف صرف اگر ازبک ہیں تو اس بابت بھی ابہام زیادہ سودمند ثابت نہیں ہوگا۔

ضرب ِعضب بمقابلہ گلو بٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جب اتوار 15 جون کی شام چینلوں پر بریکنگ نیوز نشر ہوئی کہ شمالی وزیرستان آپریشن شروع ہوگیا ہے تو یہ خبر میڈیا سمیت سب ہی کے لیے یوں حیران کن تھی کہ ابھی تو ملکی و غیرملکی شدت پسندوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے دی گئی 15 روزہ حتمی مدت بھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

ابھی تو لاکھوں عام شمالی وزیرستانی اسی الٹی میٹم کو ذہن میں رکھتے ہوئے نقل مکانی کی تیاری کر رہے تھے۔ آپریشن شروع ہونے سے پہلے کوئی ایسی خبر بھی نہیں آئی کہ ممکنہ کارروائی کی صورت میں پناہ گزین آبادی کے لیے فلاں فلاں علاقے میں قیام و طعام کا عارضی بندوبست کر دیاگیا ہے۔ حالانکہ چھ برس قبل مالا کنڈ آپریشن سے قبل سوات کی پوری آبادی کے انخلا اور عارضی رہائش اور پھر مرحلہ وار واپسی کی بنیادی منصوبہ بندی کر لی گئی تھی۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے پریس ریلیز کی شکل میں جب اچانک ضربِ عضب کی خبر جاری ہوئی تو یہ سوال بھی گرد کی طرح اٹھا کہ آیا یہ جنرلوں کا فیصلہ ہے، سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے یا متفقہ فیصلہ ہے۔

آپریشن کی خبر طشت از بام ہونے کے لگ بھگ نصف گھنٹے بعد وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے وفاق کی جانب سے اس آپریشن کی مالکانہ تصدیق کردی۔

لیکن یہ سوال ہنوز برقرار ہے کہ اگر آپریشن حکومت نے شروع کیا تو اس کی پہلی باضابطہ اطلاع وزارتِ دفاع یا وزارتِ اطلاعات کے بجائے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی طرف سے کیوں جاری ہوئی۔

بہرحال میڈیا کو یہ بات ہضم کرنے میں چند گھنٹے لگے اور پھر چینلوں اور اخبارات کا مزاج بنتا چلا گیا۔ بیشتر سیاسی جماعتوں کا ردِ عمل بھی رفتہ رفتہ سامنے آنے لگا۔ سوشل میڈیا بھی آپریشن کی حمایت میں متحرک ہوگیا۔ اینکروں اور نیوز کاسٹروں کی زبانی پاک فوج کی قربانیوں اور عزم کی قصیدہ خوانی شروع ہوگئی۔ زیادہ تر ٹاک شوز میں آپریشنل آنکڑے بازی اور چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور کے پولیس تشدد واقعات نے ضربِ عضب کو حاصل توجہ چرا لی

یوں محسوس ہوا جیسے میڈیا کی بھرپور کوشش ہے کہ معاشرے کے زیادہ سے زیادہ طبقات دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہونے والے اس آپریشن کو قومی بقا کی لڑائی کے طور پر قبول کر لیں۔

مگر صرف ڈھائی دن میں ہی ضرب ِ عضب شہ سرخیوں سے سکڑ کر دو کالمی خبر تک آ کر چینلوں کے خبری بلیٹنوں میں دوسرے یا تیسرے نمبر کی ہیڈ لائن بن گئی۔ لاہور کے پولیس تشدد واقعات نے ضربِ عضب کو حاصل توجہ چرا لی۔

کیا وجہ ہے کہ وہ آپریشن جس کا برسوں سے مطالبہ تھا اور جس کی اہمیت یہاں تک بتائی جاتی تھی کہ اس کی کامیابی و ناکامی ریاست کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، وہ آپریشن صرف 60 گھنٹے بعد ہی میڈیا کی شہ سرخیوں میں لاہور میں تشدد اور گلو بٹ تلے آگیا۔

سنہ 65 میں پہلی بڑی پاک بھارت جنگ ہوئی تو اس وقت صرف اخبارات ہی تھے اور وہ بھی ایوب خانی شکنجے میں کسے ہوئے۔ پھر بھی کم از کم مغربی پاکستان کی حد تک تمام قابلِ ذکر طبقات محض ایک رجزیہ صدارتی خطاب کے نتیجے میں ملی جوش و خروش کے دھاگے میں خود بخود پروئے گئے اور گلوکاروں سے لے کے فوجیوں تک سب نے اس جنگ کو اپنے اپنے محاذ پر مشترکہ لڑا۔

Image caption کیا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں میں ایریل ڈی این اے اینالسسز سنسرز بھی لگے ہوئے ہیں؟

اس کے بعد ایسا ہی دوسرا موقع 2005 کا زلزلہ تھا جب سرکار سے زیادہ میڈیا نے اس آفت کو اپنا لیا اور شہریوں کو ملک گیر سطح پر مصیبت زدگان کی مدد کے لیے تیزی سے آمادہ و تیار کیا اور پھر سول سوسائٹی نے اس کڑے وقت میں حکومت کا انفرادی و اجتماعی بھرپور ساتھ دیا۔

جب مارچ 2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کیا گیا تو میڈیا آئین و قانون کی بالادستی کی لڑائی میں بھی فعال فریق بن گیا اور عوامی ہمدردیوں کی یکجائی میں بنیادی کردار نبھایا۔ یہی عمل نومبر 2007 میں مشرف ایمرجنسی کی مزاحمت کے دوران بھی دیکھنے میں آیا۔

دو برس بعد سوات میں آپریشن راہ ِراست کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے میں بھی میڈیا نے اہم کردار ادا کیا، اور مالاکنڈ ڈویژن کے لاکھوں مقامیوں نے بہت زیادہ پس و پیش کے بغیر ایک بڑے مقصد کی خاطر عارضی بے گھری قبول کرلی۔ مگر کیا سبب ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم اندرونی آپریشن ضربِ عضب شروع ہوتے ہی میڈیا کی مسلسل اور ضروری توجہ اپنے پر برقرار نہ رکھ پایا؟

وجہ بہت سامنے کی ہے۔ شمالی وزیرستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے میڈیا اس کا عینی شاہد نہیں۔ قبائلی علاقہ کئی برس سے میڈیا کے لیے علاقہ غیر ہے جہاں طالبان یا فوج کی مرضی کے بغیر آزادانہ رپورٹنگ موت کو دعوت دینا ہے۔

دونوں جانب سے جو بھی کچی پکی خبر ملتی ہے وہ یا تو پریس ریلیز اور فون کال یا پھر مقامی مسافروں کے ذریعے ملتی ہے۔ دور دراز بیٹھ کر یا پھر اندھیرے میں کسی کا ہاتھ پکڑ کر آپ آخر کتنی چیزیں تلاش کر سکتے ہیں؟

خود فوج نے بھی ضربِ عضب سے پہلے میڈیا کو کوئی واضح عندیہ نہیں دیا یا بقول شخصے ایڈیٹروں یا مالکان کو بھی بند کمرے میں اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کی۔ اس دوران ذرائعِ ابلاغ بالخصوص الیکٹرونک میڈیا اندرونی جوتم پیزار کا شکار بھی ہیں۔ ویسے بھی موجودہ زمانے میں میڈیا کی دلچسپی وہاں زیادہ ہوتی ہے جہاں سے مسلسل بصری و لسانی مسالا ملتا رہے۔

1990کے بعد سے میڈیا اور ناظر کی عادتیں اور ترجیحات بدل چکی ہیں۔ جنگِ کویت پہلی لڑائی تھی جسے آپ وڈیو گیمز کی طرح گھر بیٹھے دیکھ سکتے تھے۔اس کے بعد افریقہ تا ایشیا، بوسنیا تا افغانستان اور تیونس تا یمن ایک سے ایک خونی لڑائیاں ہوئیں لیکن وہی واقعات عام آدمی کی رائے پر کوئی منفی و مثبت اثر ڈال سکے جنھیں اس نے بھرپور تفصیلات و تصاویر کے ساتھ بصری و لفظی میڈیم اور سوشل میڈیا پر دیکھا۔

شاید اسی لیے 1999 کی جنگِ کارگل کے دوران بھارتی میڈیا کی محاذ ِجنگ تک رسائی نے تو عام بھارتی کو قومی موقف سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر پاکستانی میڈیا سے چونکہ یہ لڑائی پوشیدہ اور دور رکھی گئی، لہٰذا پاکستانی سوسائٹی میں اس لڑائی کے مقاصد کی بابت کوئی خاص نفسیاتی ہمدردی نہیں جاگی ( شاید لڑنے والے بھی بوجوہ یہی چاہتے تھے)۔

سنہ 71 کی جنگ کے دوران بھی چونکہ ذرائع ابلاغ کو حقائق تک رسائی کا موقع نہیں دیا گیا لہٰذا پوری قوم کی طرح ذرائع ابلاغ نے بھی شتر مرغ کی طرح سرکاری دعووں کے کاغذی ڈھیر میں چہرہ چھپانے میں عافیت جانی۔ چنانچہ 16 دسمبر 1971 کی صبح تک چہار طرف فتح و نصرت کے شادیانے بجتے رہے اور پھر سہ پہر کو تپتی حقیقت نے قومی چہرہ جھلسا کے رکھ دیا۔

اگرچہ اب زمانہ اور لوگ بدل چکے ہیں لیکن کم دکھانے، مرضی کا دکھانے اور زیادہ سے زیادہ چھپانے کی ذہنیت وہی کی وہی ہے۔ آپریشن عضب بھی اس سے مبرا نہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ انتہائی اہم بات بھی مسلسل تکرار کے سبب اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہے اسی طرح محض پریس ریلیز کے بل بوتے پر کیے جانے والے مسلسل دعوے بھی ایک وقت کے بعد بوریت و یکسانیت کے جوہڑ میں تیرنے لگتے ہیں۔

آزاد خبر تک میڈیا کی مسلسل عدم رسائی کے سبب اس طرح کے سوالات اٹھتے ہیں کہ بمباری کے فوراً بعد یہ کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ مرنے والے سب ہی دہشت گرد ہیں اور ان کا تعلق کسی مخصوص قومیت یا ملک ہی سے ہے؟

تو کیا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں میں ایریل ڈی این اے اینیلسز سنسرز بھی لگے ہوئے ہیں؟

کیا میڈیا کی اکتاہٹ ختم ہو سکتی ہے؟

بالکل ہو سکتی ہے اگر اسے جنگی مقاصد، میدانِ جنگ اور اس جنگ کے متاثرین تک بھلے محدود ہی سہی رسائی حاصل ہو۔ یا پھر طالبان کی جانب سے کوئی ایسا خونریز ردِ عمل سامنے آئے جو میڈیا اور سول سوسائٹی کو جھنجوڑ دے۔ یوں حکومت، فوج اور میڈیا کی ایک ممکنہ ہم آہنگ تکون تشکیل پا جائے گی۔

بصورتِ دیگر ضربِ عضب بمقابلہ گلو بٹ ہی جاری رہے گا۔

اسی بارے میں