پاکستان میں سرکاری دفاتر خواتین کیلیے’غیرمحفوظ‘

خواتین کا احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں اب خواتین بہت سے معاملات پر احتجاج کرتی ہیں لیکن جنسی ہراس کا معاملے اب تک اتنا پیچیدہ ہے کہ اس پر بات کرنے میں مشکلا پیش آتی ہیں

پاکستان میں دفاتر میں ہونے والے جنسی ہراس سے متعلق قانون کو بنوانے اور قوانین کے نفاذ پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم ’مہرگڑھ‘ کے مطابق گذشتہ چار برسوں میں خواتین نے جنسی ہراس کے تین ہزار سے زیادہ کیس درج کرائے ہیں۔

وفاقی محتسب کے پاس جانے والے ان مقدمات میں سے تقریباً 80 فیصد کا تعلق سرکاری دفاتر سے ہے۔

ان واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے 29 سالہ بتول اب تک خود کو بمشکل سنبھال پاتی ہیں۔ جن دنوں انھیں ہراساس کیا جا رہا تھا، وہ دفتر سے گھر آ کر روتی رہتی تھیں۔ جب ان کے والدین نے پوچھا کہ آخر کیا ہوا، تو وہ اتنی نفسیاتی دباؤ میں تھیں کہ انھیں بتانے پر مجبور ہو گئیں۔

کہانی چھ سال قبل تب شروع ہوئی جب بتول نے بزنس میں ماسٹرز کے بعد ایک سرکاری دفتر میں پہلی ملازمت شروع کی۔ اچھی کارکردگی کے باعث، انھیں اعزاز بھی ملے۔ لیکن مزید ترقی کی امیدوں پر اُس وقت پانی پھرگیا جب عباس نامی شخص ان کے افسر بنے۔

بتول نے مجھے فون پر بتایا کہ ’میں بڑی سادہ لڑکی ہوں، پہلے تو مجھے سمجھ بھی نہیں آتا تھا کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔‘

بدنامی اور نوکری جانے کے ڈر سے انھوں نے فون پر اپنی آواز ریکارڈ کروانے سے بھی انکار کر دیا۔

عباس بتول سے زومعنی باتیں کرتے تھے۔ ان کے خلاف کمپنی کو بھیجی گئی شکایت میں، جس کی کاپی بی بی سی اردو کے پاس ہے، بتول نے لکھا کہ وہ اسے کہتا تھا، ’اس کے اندر کتنی گرمی ہے‘، ’آج یہ پٹاخا لگ رہی ہے‘، ’تم سائیکل ہو‘ اور ’آج مجھ سے کام نہیں ہو رہا کیونکہ تم بہت سیکسی لگ رہی ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈاکٹر فوزیہ سعید کی کتاب ورکنگ ود شارکس جس اب اردو ترجمہ بھی شایع ہو چکا ہے دفاتر میں جنسی ہراس اور اُس کے خلاف عورتوں کی جدو جہد کی کہانی بیان کرتی ہے۔

بتول کے دفتر کے ایک ساتھی مدثر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک بار عباس نے سب کے سامنے بتول کو کہا، ’اتنے ڈھیلے کپڑے کیوں پہنتی ہو، اگلی بار پہنوگی تو پھاڑ کر پھینک دوں گا۔‘

بالآخر تنگ آکر، بتول نے عباس کے خلاف کمپنی کے سربراہ کو شکایت کا خط لکھا۔ جب اس شکایت کا کوئی نوٹس نہ لیا گیا، تو پھر بتول نے، جنسی ہراسیت سے تحفظ کے لیے، دفاتر میں قائم کئے گئے وفاقی محتسب کے سیل میں کیس درج کرا دیا۔ چھ ماہ تک کارروائی چلی اور اس سال فروری کو عباس کو جبری ریٹائرمنٹ کی سخت سے سخت سزا سنائی گئی۔ تاہم، اس تمام کارروائی کے باوجود، عباس کی ترقی ہوگئی ہے اور سزا وہیں کی وہیں ہے۔

بتول نے بتایا کہ ’جب میں نے وفاقی محتسب کے ہاں عباس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی، تب بھی وہ سب کے سامنے میری تذلیل کرتے رہے، تاکہ میں دباؤ میں آ کر مقدمہ واپس لے لوں۔‘ ان کا کہنا ہے ’عباس کے کیونکہ سیاسی تعلقات ہیں، اسی لیے انھیں دی گئی سزا پر عمل نہیں ہوا۔‘

بتول کے کیس ان 18 کیسوں میں سے ہے، جن میں سزا دی گئی۔

پاکستانی دفاتر میں خواتین کو جنسی ہراس سے محفوظ رکھنے کے لیے 2010 میں قانون منظور ہوا تھا۔ اس قانون کو بنوانے اور اس کے نفاذ کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیم مہرگڑھ کے مطابق، گذشتہ چار برسوں میں جنسی ہراس کے تین ہزار سے زیادہ کیس مختلف اداروں کی اندرونی انکوائری کمیٹیوں کے پاس جا چکے ہیں۔

ان اداروں میں سرکاری دفاتر، یونی ورسٹیاں، کثیرالقومی ادارے، اور ہسپتال شامل ہیں۔ مہرگڑھ کا کہنا ہے کہ یہ وہ کیس ہیں جن کے بارے میں انھیں معلوم ہے، اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس قانون کے تحت، اگر کوئی خاتون انکوائر کمیٹی کے فیصلوں یا تشکیل پر اعتماد نہیں رکھتی، وہ دفاتر میں خواتین کے جنسی ہراس سے تحفظ کے لیے قائم کیے گیے وفاقی محتسب سیل میں درخواست دے سکتی ہیں۔ محتسب کے اعدو د و شمار کے مطابق، جولائی 2011 سے اپریل 2014 تک، 173 کیس درج ہو چکے ہیں، جن میں سے 77 فیصد کا تعلق سرکاری دفاتر سے ہے۔

تعجب کی بات یہ نہیں کہ پاکستان میں جنسی ہراس کے واقعات پیش آتے ہیں، تعجب یہ ہے کہ شرمندگی، بدنامی اور نوکری جانے کے ڈر کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں خواتین اس قانون کا استعمال کر رہی ہیں۔

جنسی ہراس کے مقدمات لڑنے والی وکیل خدیجہ علی نے بتایا کہ ان کے پاس کس قسم کے کیس آتے ہیں۔ ’بہت کم کیس ایسے ہوتے ہیں جہاں معاملہ جسمانی حد تک جاتا ہے۔ زیادہ تر زومعنی باتوں کے ہوتے ہیں اور پھر ترقی کے بدلے جنسی تعلقات کے لیے اصرار۔ اور پھر جب خواتین نہیں مانتیں تو انھیں رات دیر تک دفتر میں کام کے بہانے سے روک لیا جاتا ہے یا ان کی کارکردگی کی رپورٹ خراب کی جاتی ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ جب خواتین کارروائی کرتی ہیں، تو انھیں بہت ہمت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ ’میرے پاس ایسے بھی کیس آئے ہیں جن میں خواتین نے معاملے کے بارے میں اپنے خاندن کو بھی نہیں بتایا ہوتا کہ وہ قانونی کارروائی کر رہی ہیں کیونکہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ انھیں دفتر جانے سے روک دیا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈاکر فوزیہ سعید جن کے ادارے میں پاکستان میں جنسی ہراس کے خلاف قوانین بنوانے کی کامیاب جدوجہد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں غلط تاثر یہ ہے کہ صرف نوجوان اور خوبصورت خواتین کو تنگ کیا جاتا ہے۔ ’میرے پاس ایک چالیس سالہ خاتون کا کیس آیا جو طلاق شدہ اور تین بچوں کی ماں تھیں۔ مجبوری میں وہ نوکری بھی نہیں چھوڑ سکتی تھیں۔‘

مہرگڑھ کی اہلکار ڈاکٹر فوزیہ سیعد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بعض ایسے سرکاری دفاتر ہیں جہاں اس قانون کے خلاف ایک طرح کی مزاحمت نظر آتی ہے۔

’پاکستان ائر ویز اور پنجاب یونیورسٹی ایسے ادارے ہیں جہاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جانا پڑا۔ جو مرد خواتین کو ہراساں کرتے ہیں، وہ بہت بے شرم اور ’بہادر‘ لوگ ہیں۔ اپنی نوکریاں بحال کرنے کے لیے سیاسی مداخلت کا استعمال کرتے ہیں اور سفارشیں کرواتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی معاشرہ اتنا تبدیل نہیں ہوا کہ ملزم اپنے کیے پر شرمندہ ہو۔‘

پاکستان میں ان خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ملازمت کر رہی ہیں۔ جس رویے اور برتاؤ کا سامنا انھیں سڑکوں اور بازاروں میں کرنا پڑتا ہے، اسی طرح وہ دفاتر میں بھی محفوظ نہیں۔ بلکہ شاید دفاتر زیادہ غیرمحفوظ ہیں۔ خواتین ’چیز‘ نہیں، لیکن یہ بات کون سکھائے گا؟ قانون یا تربیت؟

اسی بارے میں