کراچی: منگھوپیر میں کارروائی، دو ’طالبان کمانڈر‘ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے طالبان شدت پسند مقامی کمانڈر تھے

کراچی میں پولیس اور رینجرز سے مبینہ مقابلے میں دو طالبان کمانڈر ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

رینجرز اور پولیس نے منگھو پیر کے علاقے سلطان آباد میں مشترکہ کارروائی کی، جس دوران عسکریت پسندوں نے ان پر فائرنگ کی۔

ایس ایس پی عرفان بلوچ کے مطابق مقابلے میں طالبان کے دو مقامی کمانڈر ہلاک ہوگئے، جن کی شناخت فخر الدین محسود عرف فخرو اور عابد چھوٹو کے نام سے ہوئی ہے جو تحریک طالبان کے مقامی کمانڈر تھے۔

فائرنگ کے تبادلے میں رینجرز کے تین اہلکار بھی زخمی ہوگئے ہیں جنھیں مقامی ہپستال میں منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق منگھو پیر کے علاقے کا شمار شہر کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں کالعدم تحریک طالبان زیادہ سرگرم ہے۔ اس سے پہلے بھی پولیس اور رینجرز منگھو پیر، کنواری کالونی اور سلطان آباد کے علاقوں میں آپریشن کر چکی ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث کراچی میں سکیورٹی کو ریڈ الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ پولیس اور رینجرز اہم قومی تنصیبات پر تعینات ہیں۔

صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ آپریشن کے رد عمل میں کراچی میں جوابی تخریب کاری کے امکانات موجود ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کی ریاست شمالی وزیرستان میں تحریکِ طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے جس میں اب تک تقریباً 200 کے قریب شدت پسندوں کی ہلاکت کے سرکاری دعوے سامنے آ چکے ہیں۔

اس آپریشن کی وجہ سے ملک کے دیگر حصوں میں نہ صرف جوابی حملوں کا خدشہ ہے بلکہ آپریشن کے نتیجے میں علاقے سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ چند دنوں کے دوران 70 ہزار کے قریب افراد محفوظ علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں۔

اس ماہ کراچی کے ہوائی اڈے پر بھی ایک حملے میں ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکاروں سمیت کم سے کم 23 افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں