’پناہ گزینوں کو خیبرپختونخوا تک محدود رکھنے کا منصوبہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان سے لوگوں کی نقل مکانی کے لیے فوج نے کرفیو میں تین دن کی نرمی کی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کی وجہ سے علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو صوبہ خیبر پختونخوا تک محدود کرنے کے لیے دوسرے صوبوں بلخصوص پنجاب، سندھ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے حکمت عملی تیار کی ہے۔

پنجاب اور اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹس میں اس آپریشن کی وجہ سے وہاں شدت پسندوں کے نکل کر صوبے کے مختلف شہروں اور بندوبستی علاقوں میں میں پناہ لینے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار عبدالرشید کے مطابق ان رپورٹس کی روشنی میں پنجاب کی صوبہ خیبر پختونخوا سے ملنے والی سرحد اٹک کے قریب واقع چیک پوسٹ میں پولیس اہلکاروں کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے جن کا کام شمالی اور جنوبی وزیرستان سے آنے والے افراد کو چیک کرنا ہے۔

اس کے علاوہ ٹیکسلا کی قریب مارگلہ کی پہاڑیوں کے قریب بھی ایک چیک پوسٹ قائم کی گئی ہے جبکہ پیری ودھائی کے قریب آرمی کی چیک پوسٹ ہے۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق مارگلہ چیک پوسٹ کے قریب ایک سو سے زائد افراد کو واپس صوبہ خیبر پختونخوا بھیجا گیا ہے جو قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کر کے راولپنڈی اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں کرائے پر رہائش رکھنا چاہتے تھے۔

Image caption نقل مکانی کرنے والے افراد کی شناخت کے لیے سکیورٹی فورسز کے ناکے لگائے گئے ہیں

عبدالرشید کے مطابق مارگلہ کی پہاڑیوں کے قریب چیک پوسٹ پر جن لوگوں کے رشتہ دار راولپنڈی میں رہتے ہیں، اُنھیں وہیں پر بُلا کر اچھی طرح چھان بین کرنے کے بعد نقل مکانی کرنے والے افراد کو راولپنڈی جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ اور دیگر شہروں میں جانے والے راستوں پر بھی ناکے لگا کر قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والےافراد کی چیکنگ سخت کر دی گئی ہے جبکہ صوبہ سندھ کی حکومت نے پنجاب سے ملنے والی سرحد صادق آباد اور اُباڑو کے قریب بھی پولیس کی چیک پوسٹوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی خاصی نفری بھی تعینات کر دی ہے۔

اسلام آباد پولیس نے وفاقی دارالحکومت کی طرف آنے والے راستوں پر چیکنگ کو مزید سخت کر دیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ایس پی صدر سرکل کیپٹن ریٹائرڈ محمد الیاس کے مطابق اُن کے سرکل میں شہری حدود میں واقع ناکوں کو ختم کردیا گیا ہے اور وہاں پر کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کو اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی حکام کے مطابق شدت پسندوں کے مختلف شہروں اور بندوبستی علاقوں میں میں پناہ لینے کے امکانات ہیں

پولیس اہلکار کے مطابق پاکستان ایئرفورس اور نیول ہیڈ کوارٹرز کے قریبی علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے وہاں پر پولیس کی چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں جبکہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر فوجی اہلکار پہلے سے ہی موجود ہیں۔

اسلام آباد میں پولیس اور رینجرز کا مشترکہ گشت جاری ہے جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے فوجی اہلکاروں کو اسلام آباد پولیس کے ہیڈ کوارٹرز اور دیگر جگہوں پر ٹھرایا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے نواحی علاقوں جن میں ترنول، شاہ اللہ دتہ، میرا اکو، نورپور شاہاں، مسلم کالونی اور بارہ کہو کے علاقوں میں سرچ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اس ضمن میں حتمی منظوری وزارت داخلہ سے لی جائے گی۔

اسلام آباد پولیس کی انتظامیہ کے ایک افسر کے مطابق گُذشتہ ایک سال میں اسلام آباد کے مختلف علاقوں، ترنول اور بارہ کہو میں 80 فیصد زمین خریدنے والوں کا تعلق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے ہے جن میں سے زیادہ تر خریداروں کا تعلق شمالی اور جنوبی وزیرستان سے ہے۔

اسی بارے میں