اسلام آباد میں عوامی اجتماعات پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موجودہ صورت حال میں معمول سے بڑھ کر اقدامات کی ضرورت ہے: چوہدری نثار

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہر قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے۔

حکومت پاکستان کے تعلقات عامہ کی سرکاری ویب سائٹ پی آئی ڈی پر جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس میں شمالی وزیرستان آپریشن کے تناظر میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

چوہدری نثار نے کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی جڑواں شہروں کی سکیورٹی کو فول پروف بناتے ہوئے شرپسندوں کے خلاف جنگی بنیادوں پر کارروائی کی جائے۔ انھوں نے ہدایت کی کہ دونوں شہروں میں پولیس اور رینجرز کے سرچ آپریشن کو تیز کیا جائے۔

وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں عوامی اجتماع پر پابندی کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری 23 جون کو کینیڈا سے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں معمول سے بڑھ کر اقدامات کی ضرورت ہے اور حساس مقامات اور اہم عمارتوں کی نشاندہی کر کے ان کی سکیورٹی بڑھائی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد میں آپریشن کے بعد سے ہی سکیورٹی اقدامات سخت ہیں

اجلاس میں اسلام آباد کی سکیورٹی کا ازسر نو جائزہ بھی لیا گیا۔ وزیر داخلہ نے وفاقی دارالحکومت کے داخلی اور خارجہ راستوں کی سخت نگرانی سمیت پیدل راستوں پر بھی سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ طاہرالقادری کے استقبال کے لیے آنے والے لوگوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔

طاہر القادری کی جماعت کے نو کارکن گذشتہ منگل کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کے قریب پولیس کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں