پاکستان میں افغان موبائل سمز بند کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پشاور ہائی کورٹ نے بھی حکومت سے غیر قانونی سِموں کے بارے میں قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا

وزیرِاعظم نواز شریف نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک میں زیرِاستعمال تمام افغان موبائل سِمیں بند کر دیں۔

وزیرِِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے مطابق یہ ہدایت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درخواست پر جاری کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی ریاست مخالف اور مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو افغانستان کی موبائل فون سِموں کی رومنگ کی سہولت بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیرِاعظم نواز شریف نے دو دنوں میں اِس ہدایت پر عمل درآمد کا کہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اِس فیصلے سے نہ صرف شدت پسندوں کے مابین رابطوں کا نظام متاثر ہو گا بلکہ اِغواء برائے تاوان جیسے جرائم میں بھی کمی آئے گی۔

گذشتہ برس ستمبر میں پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو موبائل فون کے غیر قانونی سِمیں (سبسکرائبرز آیڈنٹٹی ماڈیولز) فوری طور پر بند کرنے اور حکومت سےاس بارے میں قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ حکم چیف جسٹس دوست محمد خان کی جانب سے غیر قانونی سِم کارڈز کی فروخت پر از خود نوٹس پر دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے اس کیس کی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک اطلاع کے مطابق پاکستان اور خاص طور پر خیبر پختونخوا میں افغان فون کمپنیوں کی کوئی دس لاکھ سِمیں استعمال ہو رہی ہیں۔

اس کے بعد ایک دوسرے مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی ایک حکم میں بغیر آئی ایم ای آئی کے موبائل فون کی درآمد پر پابندی عائد کردی تھی اور موبائل سِموں کے اجرا کے لیے ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دی تھی۔

آئی ایم ای آئی رجسٹرڈ موبائل فون سیٹ میں موجود آلہ ہے جس کی مدد سے صارف کی کسی جگہ موجودگی کے مقام کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔ اگر آئی ایم ای آئی کو بلاک کر دیا جائے تو موبائل فون ناکارہ ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں متعدد بار افغان موبائل سِموں کے شدت پسندی کے واقعات میں استعمال ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

ملک میں اہم مذہبی تہواروں پر ملک کے زیادہ تر شہروں میں مقامی موبائل سروس کو عارضی طور پر بند کر دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں