’شہریوں کی محفوظ نقل مکانی تک آپریشن روکا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے کہا کہ مزید دو سے ڈھائی لاکھ مزید متاثرین وہاں آ رہے ہیں

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت شمالی وزیرستان کے متاثرین کی مدد کے لیے نہ صرف چھ ارب روپے کے فنڈز جارے کرے بلکہ عام شہریوں کی ہلاکت سے بچنے کے لیے فوجی آپریشن کو بھی عارضی طور پر معطل کیا جائے۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں عمران کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے متاثرین کی امداد کے لیے وفاقی حکومت چھ ارب روپے صوبائی حکومت کو دیں تاکہ ان افراد کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو بنوں بھیج رہے کہ تاکہ وہ وہاں آنے والے متاثرین کی مدد کر سکیں۔ عمران خان نے کہا کہ مزید دو سے ڈھائی لاکھ مزید متاثرین وہاں آ رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ایسے حالات میں جب وہاں عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد محصور ہو کر رہ گئی ہے وہاں بمباری نہیں کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ وقت کے لیے آپریشن کو روکنا چاہیے کیونکہ وہاں عورتیں اور بچے محصور ہیں۔ ایسے میں شہری آبادی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بریفینگ دی گئی ہے کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد شہروں میں دہشت گردی پھیلنے کا خطرہ ہے اس لیے خیبرپختونخوا کی پولیس کی مدد اور رہنمائی کی جائے۔‘

انھوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اس وقت اپنے تمام دورے منسوخ کریں اور وفاقی حکومت، صوبائی حکومت کے ساتھ بات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کی آمد اور شدید گرمی کے باعث متاثرین کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بحران کے سانحے میں بدلنے سے پہلے حکومت اقدامات کرے۔

’اصل میں یہ منصوبہ بندی پہلے ہونی چاہیے تھی، جو اصل میں خیبر پختونخوا کی حکومت کی ذمہ داری تھی، جسے پتہ ہی نہیں تھا کہ آپریشن ہو رہا ہے۔‘

عمران خان نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ آپریشن کے متاثرین کو وہاں آنے سے نہ روکیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھی پاکستانی ہیں انھیں اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے سے نہ روکا جائے۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ نے اس موقعے پر کہا کہ آپریشن کے تمام نقصانات خیبرپختونخوا کی حکومت کو اٹھانا پڑیں گے۔’نہ صرف متاثرین بلکہ شدت پسندوں کی جوابی کارروائیوں کا نشانہ بھی یہی بنے گی۔ انھوں نے بتایا کے صوبائی حکومت پر یہ اچانک افتاد آن پڑی، اس لیے اب تک صوبائی حکومت کی کوئی تیاری نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ سے سالانہ 75 ارب روپے فنڈ آتا ہے۔ اس لیے متاثرین کو بھوکا مرنے سے بچانے کے لیے وفاقی حکومت کم سے کم چھ ارپ روپے کے فنڈز خیبر پختونخوا حکومت کو جاری کرے۔

اسی بارے میں