ساڑھے تین لاکھ افراد کی نقل مکانی، ’پولیو کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے باعث بڑی تعداد میں نقل مکانی ہو رہی ہے اور اس نقل مکانی کے وجہ سے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پولیو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد میں ڈیڑھ لاکھ بچے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ یہ بھرپور موقع ہے کہ اِن افراد کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔

فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد حسیب خان نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ پناہ گزینوں کی کُل تعداد میں سے بیالیس فیصد تعداد بچوں کی ہے جبکہ 31 فیصد خواتین ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی سب سے بڑی تعداد شمالی وزیرستان میں ہے۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں مقامی رہنماؤں نے جون 2012 سے پولیو مہم معطل کردی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے باعث بڑی تعداد میں نقل مکانی ہو رہی ہے اور اس نقل مکانی کے وجہ سے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پولیو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے پولیو کوآرڈینیٹر ڈاکٹر زبیر مفتی نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا ’دو سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے کہ شِمالی وزیرستان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جاسکے۔ اب جبکہ یہ آبادی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرکے باہر آئی ہے تو بھرپور موقع ہے کہ اِن افراد کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔‘

ڈاکٹر زبیر مفتی نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے تجربے سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جن علاقوں میں ویکسینیشن نہیں کی جاتی وہاں سے پناہ گزین دوسرے علاقوں کا رُخ کرتے ہیں تو اُن سے میزبان کمیونیٹی کو بھی پولیو سمیت صحت کے دیگر مسائل کا خطرہ لاحِق ہوجاتا ہے۔

’اسی لیے ایسے پناہ گزینوں کو تلاش کرکے فوری طور پر پولیو سے بچاؤ کےقطرے پلائے جانے چاہئیں۔‘

نقل مکانی کرنے والے افراد کو رجسٹریشن پوائنٹ پر پولیو کے قطرے پلائے جانے پر عالمی ادارہ صحت کے نمائندے کا کہنا ہے ’اِن پناہ گزینوں کو کم از کم چار مراحل میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ضروری ہیں۔ لیکن چونکہ یہ افراد کیمپوں کے بجائے مختلف علاقوں میں اپنے عزیز و اقارب یا رشتے داروں کے یہاں قیام کررہے ہیں تو انہیں تلاش کرکے پولیو سے بچاؤ کا مکمل کورس کرانا ذرا مشکل کام ہوگا۔‘

فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ 28997 خاندانوں میں سے صرف سولہ خاندان پناہ گزین کیمپ میں رہائش پذیر ہیں جبکہ باقی خاندانوں نے رجسٹریشن کے بعد اپنے عزیز و اقارب یا بندوبستی علاقوں میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب صوبہ خیبر پختون خوا حکومت کی جانب سے قائم پولیو سیل کے ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بتایا کہ اس وائرس کے مکمل خاتمے کا ایک طریقہ ہے اور وہ ہے باقاعدگی سے پولیو کے بچاؤ کے قطرے پلانا۔

’اس کے ساتھ ساتھ جن علاقوں میں یہ افراد نقل مکانی کررہے ہیں وہاں پہ بھی بچوں کے قطرے پلائے جانا ضروری ہے تاکہ اس بیماری کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ اس سلسلے میں صوبائی سطح پر پولیو مہم کا ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کی وفاقی حکومت سے منظوری ملتے ہی آغاز کردیا جائے گا۔‘

شمالی وزیرستان میں نافذ کرفیو میں اتوار کے روز بھی نرمی کی گئی تاکہ شہری نقل مکانی کر سکیں۔

حسیب خان نے مزید بتایا کہ ایف آر بنوں کے علاقے بکا خیل میں قائم پناہ گزین کیمپ میں 600 خاندانوں کو راشن کے لیے 7000 روپے فی خاندان دیے گئے ہیں جبکہ 5000 روپے فی خاندان اضافی دیے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شمالی وزیرستان سے افغانستان کے راستے کرم ایجنسی سے آنے والے 95 خاندانوں کو رجسٹر کیا گیا ہے جن میں سے 25 خاندان لوئر کرم سکول میں رہائش پذیر ہیں۔

دوسری جانب ہلال احمر پاکستان کے میڈیا افسر خالد بن مجید نے بتایا کہ ہلالِ احمر چالیس ہزار پناہ گزینوں کو اشیائے خوردونوش، صاف پینے کا پانی فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلالِ احمر کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی نے احکامات جاری کیے ہیں کہ چھ موبائل ہیلتھ کلینک بھی شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے دستیاب کیے جائیں۔

اسی بارے میں