کراچی: مزید چار تشدد زدہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس کو لاشوں کے قریب سے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے خول بھی ملے ہیں

کراچی پولیس نے شہر کے ایک ویران علاقے سے مزید چار تشدد زدہ لاشیں برآمد کی ہیں جس کے بعد رواں سال شہر اور مضافات سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 29 ہوگئی ہے۔

یہ لاشیں کیماڑی ٹاؤن کے موچکو پولیس تھانے کی حدود سے پیر کی صبح ملی ہیں۔ پولیس کے مطابق رئیس گوٹھ کے قریب ویران علاقے سے ملنے والی ان لاشوں کے ہاتھ بندھے ہوئے اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کو قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کو لاشوں کے قریب سے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے خول بھی ملے ہیں۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی عمریں 30 سے 40 سال کے درمیان ہیں جنھیں پوسٹ مارٹم کے لیے عباسی شہید ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی اور آس پاس کے علاقوں سے رواں سال ویران علاقوں سے 25 سے زائد تشدد زدہ لاشیں مل چکی ہیں۔ ان لاشوں میں سے زیادہ تر کالعدم تنظیموں کے کارکن تھے جبکہ کچھ کی شناخت متحدہ قومی موومنٹ نے بطور کارکن کی تھی۔

یہ لاشیں سرجانی ٹاؤن، ملیر، میمن گوٹھ، دھابیجی اور سپر ہائی وے سے برآمد ہوئی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کا الزام ہے کہ ان کے کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے منگھو پیر کے علاقے سے پولیس کو ایک ویران علاقے سے سات لاشیں ملی تھیں جنھیں مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ پولیس نے ہلاک ہونے والوں میں سے تین کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سواتی گروپ سے بتایا تھا۔

دوسری جانب کراچی میں گذشتہ دو روز کے دوران پولیس اور رینجرز نے منگھو پیر، سلطان آباد، سہراب گوٹھ، افغان بستی میں کالعدم شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں نو دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں سے نصف کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

پولیس اور رینجرز کی یہ کارروائیاں سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت سے دو روز قبل سامنے آئیں، جہاں دونوں اداروں کو اپنی کارکردگی کی رپورٹیں پیش کرنی ہیں۔

اسی بارے میں