سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل، مشرف ملک نہیں چھوڑ سکتے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا

سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ’ای سی ایل‘ سے نکالنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

عدالت نے اس ضمن میں وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے اور کہا ہے کہ اس درخواست کی سماعت کے بعد دیکھا جائے گا کہ آیا پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے یا نہیں۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 12 جون کو سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد 15 روز کے بعد ہونا تھا۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے وفاق کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ ملزم پرویز مشرف کے خلاف غداری کے علاوہ دیگر سنگین مقدمات ہیں اور اُن کے خلاف مقدمات میں سرکاری گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ملزم کو عدالت میں پیش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

بنچ میں موجود جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نکالنے کا اختیار حکومت کے پاس ہے تو پھر حکومت اس پر کیوں پریشان ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت نے تو ملزم پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا ہے لیکن اس بارے میں سندھ ہائی کورٹ کا حکم آگیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت سندھ ہائی کورٹ کا حکم تسلیم نہیں کرتی تو پھر وہ توہینِ عدالت کی مرتکب ہوگی۔

پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت میں اپنے موکل کے میڈیکل سرٹیفیکیٹ پیش کیے جس میں ڈاکٹروں نے اُنھیں بیرون ملک علاج کروانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ سابق فوجی صدر کی والدہ شارجہ کے ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور وہ سفر کرنے کے قابل نہیں ہیں اس لیے اُن کے موکل کو اپنی والدہ کی عیادت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے فروغ نسیم کے موقف سے اتفاق نہیں کیا اور کہاکہ اس معاملے کو درخواست کی سماعت کے دوران دیکھا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے سندھ کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کو چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت 24 جون کو ہوگی جس میں ملزم پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم سیکرٹری داخلہ اور اس مقدمے کے مدعی شاہد حسن پر جرح کریں گے۔

اسی بارے میں