طاہرالقادری لاہور پہنچ گئے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہوائی اڈے کے قریب پولیس نے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری صوبہ پنجاب کے گورنر چوہدری سرور کے ساتھ طیارے سے باہر آ گئے ہیں جہاں سے وہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی گاڑی میں جناح ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئے ہیں جہاں گذشتہ ہفتے پنجاب پولیس کی کارروائی میں زخمی ہونے والے افراد زیرِ علاج ہیں۔

لاہور کے ہوائی اڈے پر پاکستان عوامی تحریک کا استقبال کرنے کے لیے ہزاروں کارکن جمع تھے۔

نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق لاہور کی انتظامیہ نے ہسپتال اور طاہر القادری کے گھر تک تعینات پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کے ساتھ راولپنڈی میں جھڑپوں کے دوران پولیس کے 100 سے زیادہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ امارات کی پرواز کا رخ اسلام آباد سے لاہور کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔ لاہور کے ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد طاہرالقادری نے جہاز سے اترنے سے انکار کر دیا تھا۔

لاہور اترنے کے بعد طاہر القادری نے ٹی وی چینلوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جہاز سے اترنے کو تیار ہیں بشرطیکہ ان کی ذاتی گاڑیاں رن وے تک آنے دی جائیں اور ان کے قافلے کے ساتھ میڈیا لائیو کوریج کرے تاکہ وہ محفوظ رہیں۔

تاہم بعد میں انھوں نے گورنر پنجاب کی بلٹ پروف گاڑی میں اپنے گھر تک جانے کی ہامی بھر لی۔

صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا مشہود نے نجی ٹی وی چینل سماء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دو گھنٹے قبل ہی ڈاکٹر طاہر القادری کے اس مطالبے کو مان لیا تھا کہ ان کی ذاتی گاڑیوں کو رن وے تک لانے دیا جائے تاکہ وہ اپنے گھر جا سکیں۔

لاہور ہوائی اڈے پر جہاز کے اترنے کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کی بڑی تعداد ہوائی اڈے پہنچ گئی۔

اس سے قبل لاہور ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد طاہر القادری نے نجی ٹی وی چینل سماء سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لاہور نہیں اتریں گے اور ان کا اصرار تھا کہ ان کو واپس اسلام آباد لے جایا جائے۔

’یہ ریاستی دہشت گردی کی ایک اور بدترین مثال ہے۔ مسافر اترنا نہیں چاہتے اور میں نہیں اترنا چاہتا۔ جہاز واپس اسلام آباد جائے گا۔ دفاعی ادارے کہاں ہیں اور کیا فوج نہیں دیکھ رہی کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب تک فوجی افسر نہیں آتے وہ جہاز سے نہیں اتریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فوج کو ماشل لا کے لیے نہیں سکیورٹی کے لیے بلا رہے ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی

اس سے قبل راولپنڈی میں جماعت کے کارکنان اور پولیس کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی جانب جانے والے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

طاہرالقادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کی بڑی تعداد نے ایئر پورٹ کی جانب جانے کی کوشش کی۔ ہوائی اڈے کے قریب پولیس نے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

پنجاب پولیس کے اہلکار محمد کامران نے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ لوگوں کے پتھراؤ کے باعث 100 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ نے وزارت داخلہ کے ذرائع سے خبر دی ہے کہ پولیس کو صرف لاٹھی چارج کا حکم ہے اور اسی لیے پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو ہوائی اڈے جانے سے روک دیا گیا۔

واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے جو منگل تک نافذالعمل رہے گی۔

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ کے قریب پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 97 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا حکم دیتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر اس کی سماعت کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

اس سے قبل جنوری 2013 میں طاہر القادری نے اپنے سینکڑوں کارکنوں سمیت اسلام آباد میں چار روز تک دھرنا دیا تھا جو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم ہوا تھا۔

امارت فضائی کمپنی کی پرواز کے اسلام آباد کی بجائے لاہور اتارے جانے کے فیصلے کے بعد کچھ پاکستانی ٹی وی چینلوں کے حوالے سے یہ افواہ بھی گردش کرتی رہی کہ امارات ائر لائن نے حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ پرواز کو ممکنہ ہائی جیکنگ سے بچایا جائے۔

بی بی سی اردو کی عنبر شمسی نے جب امارات ائر لائن سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے حکومت پاکستان سے مداخلت کی کوئی درخواست نہیں کی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی پرواز ای کے 612 پر کل 409 مسافر تھے، جن میں سے 125 تقریباً بارہ بجے دن لاہور کے ہوائی اڈے پر طیارے سے اترگئے، جن کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور ان کے لیے متبادل پروازوں کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں