ایئرپورٹ پر حملے کا نوٹس، دو ہفتوں میں جواب طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے کچھ دنوں بعد شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہوا تھا

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کراچی ایئرپورٹ پر حملے اور سات کارگو ملازمین کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئےمتعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔

کراچی کے وکیل ندیم شیخ نے چیف جسٹس تصدق حسین کو ایک درخواست میں ایئرپورٹ پر حملے کے بعد مبینہ طور پر غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے کارگو کے سات ملازمین کی ہلاکت کی نشاندہی کی تھی۔

محفوظ جگہ موت کا سبب بن گئی

ندیم شیخ کا موقف تھا کہ ایئرپورٹ پر حملے کے بعد کولڈ سٹورج میں کئی گھنٹے موجود ملازمین کو حکام نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے جبکہ ان کی زندگی بچانا ممکن تھا کیونکہ وہ کئی گھنٹے اپنے لواحقین سے ٹیلی فون پر رابطے میں تھے۔

اس وقت درخواست گزار کا موقف تھا کہ ایئرپورٹ پر حملے کو آٹھ روز گزر چکے ہیں لیکن تاحال متاثرہ خاندانوں کی کوئی قانونی، اخلاقی یا معاشی مدد نہیں کی گئی ہے اور انھیں معاوضہ ادا کیا جائے۔

عدالت نے چیئرمین سول ایوی ایشن اور سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کیا ہے اور دو ہفتوں میں جواب دائر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب کراچی ایئرپورٹ پر حملے کی تفتیش میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی بڑی پیش رفت حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption ایئرپورٹ پر حملے کی تفتیش میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی بڑی پیش رفت حاصل نہیں کر سکے ہیں

قائداعظم بین الاقوامی اڈے پر حملے کے نتیجے میں 10 حملہ آوروں سمیت 38 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کی پہلے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بعد میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے ذمے داری قبول کی تھی۔اس کارروائی کے بعد شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔

کراچی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تفتیش کر رہی ہے۔ ان ملزمان سے کچھ موبائل فون سمز بھی برآمد ہوئی ہیں جن میں سے کچھ مقامی اور کچھ افغانستان کی ہیں۔

پولیس چیف کے مطابق تفتیش کے دوران کچھ مثبت اشارے ملے ہیں جن کی بنیاد پر وہ آگے بڑھ رہے ہیں معاملے کی حساسیت کی وجہ سے وہ اس موقعے پر مزید تفصیلات بیان نہیں کر سکتے۔

غلام قادر تھیبو کا کہنا تھا کہ انھوں نے صوبائی حکومت کو سفارش کی ہے کہ انعام کا اعلان کرے تاکہ اگر کسی شہری کے پاس واقعے کے حوالے سے معلومات ہیں تو وہ پولیس کے ساتھ اس کا تبادلہ کرے۔

دوسری جانب ہلاک ہونے والے 10حملہ آوروں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔ ان کی لاشیں ایدھی سردخانے میں موجود ہیں جہاں پولیس اور رینجرز بھی نگرانی کے لیے تعینات ہے۔

اسی بارے میں