شمالی وزیرستان: فورسز پر خودکش حملہ، تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption علاقے کے باشندوں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کی پانچ تحصیلوں سپین وام، دوسلی، گڑیوم، رزمک اور شوا میں حالات پہلے سے پرامن رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہسپتال کے قریب سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں کم سے کم دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ منگل کو دوپہر کے وقت شمالی وزیرستان کے علاقے سپین وام میں پیش آیا۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے باردو سے بھری ایک گاڑی کو سپین وام ہسپتال کے سامنے قائم سکیورٹی چیک پوسٹ سے سو میٹر دور روکنے کی کوشش کی جس کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہو گیا۔

دھماکے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں دو فورسز کے اہلکار اور ایک عام شہری بتائے جاتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے سے مقامی ہسپتال کی عمارت گر کر تباہ ہوگئی ہے۔

سپین وام میں عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کا نشانہ سکیورٹی چیک پوسٹ تھی جو رورل ہیلتھ سنٹر کے ساتھ بنائی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دھماکے سے ہسپتال سے متصل واقع سرکاری سکول کی عمارت تباہ ہوگئی جبکہ اردگرد واقع مکانات کے شیشے اور دروازے بھی ٹوٹ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ سپین وام کا شمار شمالی وزیرستان کی ان 11 تحصیلوں میں ہوتا ہے جہاں سکیورٹی فورسز نے ابھی تک کارروائی کا آغاز نہیں کیا۔

علاقے کے باشندوں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کی پانچ تحصیلوں سپین وام، دوسلی، گڑیوم، رزمک اور شوا میں حالات پہلے سے پرامن رہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں آپریشن نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مقامی مشران اور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت علاقے کے لوگ غیر ملکیوں یا طالبان کو اپنے گھروں میں پناہ نہیں دیں گے اور نہ ان کی مدد کریں گے۔

اسی بارے میں