’کراچی کا دامن تنگ‘

Image caption سندھ حکومت کا خدشہ ہے کہ وزیرستان سے بے گھر ہونے والے کراچی میں آ کر آباد ہوں گے

کراچی ٹول پلازہ پر اندرون ملک سے آنے والی بسوں کی قطار لگی ہے۔ ان میں شامل نیلے رنگ کی بس بنوں سے آئی ہے۔

بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے رینجرز کا ایک جوان بس میں سوار ہوتا ہے اور لمبے بالوں کو رومال سے باندھ ہوئے نوجوان سے سوال کرتا ہے کہ کہاں سے آرہے ہوں؟ نوجوان بتاتا ہے لکی مروت سے۔

اہلکار کا اگلا سوال ہوتا ہے کہ کراچی میں کہاں جا رہے ہو؟ وہ بتاتا ہے کہ لانڈھی میں ایک ہوٹل پر کام کرتا ہوں۔ اہلکار ادھر ادھر آنکھیں دوڑتا ہے اور بس سے نیچے اتر جاتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد بنوں پہنچ گئی ہے، جہاں سے امکان ہے کہ وہ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیل سکتے ہیں۔

سندھ حکومت نے ان پناہ گزینوں کو سندھ میں داخل ہونے سے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ یہ تک کہہ چکے ہیں کہ بہت ہوگیا، اب دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگوں کو سندھ میں آنے نہیں دیا جائے گا۔

سندھ کے داخلی راستوں پر رینجرز تعینات ہیں، جو وفاقی ادارہ ہے، جبکہ صوبائی حکومت کے بیانات کے برعکس تحریری طور پر ایسا حکم نامہ جاری نہیں ہوا جس کے تحت شمالی وزیرستان سے آنے والے لوگوں کی صوبے میں آمد پر پابندی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس حکم نامے کے جاری نہ ہونے کی وجہ قانونی پیچیدگیاں ہیں کیونکہ آئینِ پاکستان کے مطابق کسی بھی شہری کو ملک میں کہیں بھی بغیر روک ٹوک جانے کی آزادی ہے۔

اس سے پہلے سوات آپریشن کے دنوں میں جب وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو حکومت سندھ نے ان آپریشن کے متاثرین کو خوش آمید کہا تھا، حالانکہ ایم کیو ایم اور قوم پرست جماعتیں دیگر صوبوں سے پناہ گزینوں کی آمد کی مخالفت کرتی رہی تھیں۔

ان کا موقف ہے کہ اس سے کراچی کا نسلی، لسانی اور مذہبی رنگ تبدیل ہو رہا ہے۔

سندھ حکومت کے فیصلے کی ان دنوں مخالفت اس قدر شدید تھی جو کراچی اور جام شورو میں احتجاج کے دوران فائرنگ میں پانچ کارکن جان گنوا بیٹھے۔

نوجوان تجزیہ کار اور صحافی ضیا الرحمان کہتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں داوڑ اور وزیر قبائل رہتے ہیں جن کے رشتے دار کراچی میں موجود نہیں، بلکہ بنوں، پشاور، چکوال اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم ہیں۔ اس کے برعکس کراچی میں سوات کے لوگ اور محسود قبائل کئی سالوں سے آباد ہیں جس وجہ سے ماضی میں ہونے والے آپریشن کے متاثرین نے یہاں کا رخ کیا تھا۔

ضیاالرحمان کا کہنا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت نے بہتر انتظام کیے تو پناہ گزین کراچی نہیں آئیں گے۔ لیکن ساتھ میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوبی وزیر ستان میں آپریشن کے دنوں میں محسود قبیلے کے لوگ بھی شمالی وزیرستان چلے گئے، یہ امکان موجود ہے کہ شاید وہ کراچی کا رخ کریں۔

اس سے پہلے جنوبی وزیرستان، باجوڑ، سوات اور کرم ایجنسی میں آپریشن کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی کراچی میں مقیم ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے معاشرے میں عدم توازن پیدا ہوا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا رد عمل کراچی میں ہونے کے امکانات موجود ہیں۔

قبائلی علاقوں کے لوگ یہاں کافی تعداد میں لوگ رہتے ہیں جو مختلف ادوار میں یہاں آئے ہیں۔ ان کی طالبان کے ساتھ ہمدردیاں اور تعلق بھی رہا ہے اور پشتون آبادی کے ان علاقوں میں ماضی میں بھی ایسی سرگرمیاں رہی ہیں۔

سمندر کے کنارے آباد کراچی کی فضا ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں خوشگوار ہے، یہاں روزگار کے ساتھ رہائش بھی آسانی سے دستیاب ہے جس وجہ سے یہ شہر ہر بیروزگار اور بے گھر کے لیے کشش رکھتا ہے۔

قومی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے رکن بریگیڈیئر ریٹائرڈ مرزا کامران کہتے ہیں 80 فیصد متاثرین کا انخلا بنوں کی طرف ہو رہا ہے، اور یہ متاثرین زیادہ تر، بنوں، چارسدہ، کوہاٹ، لکی مروت، اور ڈیرہ اسماعیل خان جا رہے ہیں اور کچھ خیبر پختونخوا سے باہر اپنے رشتے داروں کے پاس گئے ہیں۔

مرزا کامران کے مطابق متاثرین کے پاس مال مویشی ہیں اور یہاں ان کی زرعی زمین بھی ہے۔ اسی لیے ان کی کوشش ہے کہ وہ زیادہ دور نہ جائیں۔

اسی بارے میں