جہاز پر فائرنگ کے بعد سرچ آپریشن، 200 افراد حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistan International Airlines
Image caption پی آئی اے کے پاس اس وقت کُل 34 طیارے ہیں جن میں سے 24 ایکٹیو یعنی استعمال کے قابل ہیں۔

پاکستان کے شہر پشاور کے ہوائی اڈے پر اترنے والی پی آئی اے کی پرواز پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ہوائی اڈے کے اطراف میں پولیس کا بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

ہوائی جہاز پر فائرنگ سےایک خاتون مسافر ہلاک اور عملے کے دو ارکان زخمی ہوگئے تھے۔

پشاور پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز نجیب الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے واقعے کے فوری بعد ہوائی اڈے کے اطراف میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا جو تاحال جاری ہے۔

مسافر بردار جہاز پر فائرنگ: تصاویر

انھوں نے بتایا کہ اس آپریشن میں اب تک دو سو افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش جاری ہے۔

پولیس افسر کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق پشاور کے رنگ روڑ کے علاقے سے جہاز پر فائرنگ کی گئی تاہم اس بارے میں مزید تفتیش جاری ہے۔

اس سے پہلے پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سعودی دارالحکومت ریاض سے آنے والی پرواز پر لینڈنگ کے دوران فائرنگ کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون مسافر ہلاک ہوئیں جبکہ فلائٹ سٹیورڈ اعجاز خان اور واجد خان گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کپتان طارق چوہدری نے فائرنگ کے باوجود نہایت مہارت سے جہاز کو ہوائی اڈے پر اتار لیا۔ انھوں نے بتایا کہ طیارے کو پشاور ایئر پورٹ پر کھڑا کر دیا گیا ہے اور اس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پشاور ایئر پورٹ پر پروازوں کا آپریشن معمول کے مطابق ہے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ اس پرواز پر 196 مسافر اور عملے کے 10 اراکین سوار تھے۔

طیارے پر فائرنگ کے دوران کتنی اطراف سے حملہ ہوا اور کتنی گولیاں لگیں، اس سوال کے جواب میں پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ فی الحال اس بارے میں رپورٹ موصول نہیں ہوئی اس لیے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ریاض سے آنے والے پی آئی اے کے مسافر طیارے پر اُس وقت فائرنگ کی گئی ہے جب وہ زمین سے تقریباً ایک ہزار فٹ بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اس پرواز پر 196 مسافر اور عملے کے 10 اراکین سوار تھے۔ فائل فوٹو

انھوں نے بتایا کہ جہاز پر آٹھ کارتوس لگے تھے۔ شاہ فرمان نے بتایا کہ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ فاٹا سے تین یا چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور فائرنگ وہاں کی ثقافت ہے اور لوگ خوشی یعنی شادی بیاہ کے موقع پر فائرنگ کرتے رہتے ہیں لیکن زیادہ امکان اِس بات کا ہے کہ جہاز کے اوپر ہی فائرنگ کی گئی ہے۔

اِس سوال کے جواب میں کہ کیا فائرنگ روشنی والے کارتوس سے کی گئی شاہ فرمان نے بتایا کہ عام طور پر لوگ اِس علاقے میں روشنی والے کارتوس سے ہی فائرنگ کرتے ہیں لیکن یہ کارتوس عام کارتوس سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے جانی نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ابھی واقعہ تازہ ہے لہٰذا پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

ادھر اسی حوالے سے پولیس اہلکار دوست محمد خان نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ طیارے کو پانچ گولیاں لگی ہیں۔

فائرنگ کی زد میں آنے والے اسی جہاز کو آگے کراچی کے لیے روانہ ہونا تھا۔

پی آئی اے کے پاس اس وقت اس طیارے کے علاوہ کُل 34 طیارے ہیں جن میں سے 24 قابلِ استعمال ہیں۔

خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور ہلاک ہونے والی مسافر خاتون کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔

یاد رہے کہ اسی ماہ آٹھ جون کی شب ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 10 شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکاروں سمیت کم سے کم 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ صورتِ حال کو قابو میں لانے کے لیے فوج نے بھی رینجرز اور سکیورٹی فورسز کی مدد کی تھی۔

اسی بارے میں