طاہرالقادری کے سینکڑوں حامیوں کے خلاف مقدمات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طاہرالقادری کی پاکستان آمد سے پہلے نقضِ امن کے تحت پاکستان عوامی تحریکِ کے گرفتار کارکنان بھی تا حال رہا نہیں کیے گئے

پاکستان عوامی تحریک کے سینکڑوں کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ سات اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

راولپنڈی کے ریجنل پولیس آفیسر کے دفتر کے ایک اہلکار عبدالرشید نے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ راولپنڈی کے تھانہ ایئرپورٹ میں پاکستان عوام تحریکِ کے کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ سات اور کارِ سرکار میں مداخلت، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان کے الزام میں پرچے درج ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایئرپورٹ تھانے میں ڈھائی سو سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں سے دو سو افراد نامعلوم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے 55 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ باقی مطلوبہ افراد کو گرفتار کیے گئے افراد کی نشاندہی پر گرفتار کیا جائے گا۔

اسلام آباد کے تھانہ کورال میں پاکستان عوامی تحریک کے سینکڑوں کارکنوں کے خلاف پرچے درج کیے گئے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کے خلاف تھانہ کورال میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ سات اور کارِ سرکارِ میں مداخلت کے الزام میں پرچے درج ہو چکے ہیں۔

اتوار کی شب اور پیر کے روز طاہرالقادری کی اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر متوقع آمد کے موقعے پر فیض آباد، کرال چوک، پیرودھائی اور اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

فیض آباد، ڈھوک کالا خان، کرال چوک اور پھر اسلام آباد ایئرپورٹ پر پولیس اہل کاروں نے جب مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں چلائیں تو مظاہرین نے اُن پر اتنا زیادہ پتھراؤ کیا کہ پولیس اہل کار پیچھے ہٹنے اور ان میں سے بعض بھاگنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں ایک سو سے زائد پولیس ملازمین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک ہے۔ مظاہرین کے پتھراؤ سے زخمی ہونے والے پولیس اہل کار رشید خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں لوگ فوج سے اس لیے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ گولی مارتی ہے، اس لیے اگر پولیس کے پاس بھی یہ اختیار ہوتا تو پولیس اہل کاروں پر تشدد نہ ہوتا۔‘

پاکستان عوامی تحریک کے نمائندے رفیق عباسی کے مطابق پولیس کی جھڑپوں میں اب تک ڈیڑھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ اتنی ہی تعداد میں لوگ گرفتار ہوئے۔

طاہرالقادری کی پاکستان آمد سے پہلے نقضِ امن کے تحت پاکستان عوامی تحریکِ کے گرفتار کارکنان بھی تا حال رہا نہیں کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں