’سندھ کے 60 ہزار ایکڑ سرکاری رقبے پر قبضہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہ چھ ماہ کے اندر کراچی پورٹ ٹرسٹ، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اور سپارکو سے زمین کا قبضہ ختم کرایا جائے: عدالت

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو حکم دیا ہے کہ چھ ماہ میں سرکاری املاک سے قبضہ ختم کرایا جائے۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ 60 ہزار ایکڑ کے قریب سرکاری رقبے پر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، پورٹ قاسم اتھارٹی اور دیگر ادارے قابض ہیں۔

منگل کو چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی بدامنی کیس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے احکامات کی سماعت کے موقع پر یہ حکم جاری کیا۔

بورڈ آف ریونیو کے ممبر ذوالفقار شاہ نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں 60 ہزار ایکڑ کے قریب سرکاری رقبے پر قبضہ کیا گیا ہے اور اس وقت تک 2800 ایکڑ زمین سے قبضے ختم کرا کے 60 مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں جبکہ یہ مقدمات عدالتوں میں ابھی زیرِسماعت ہیں۔

محکمۂ ریونیو کی بریفنگ کی روشنی میں عدالت نے حکم جاری کیا کہ چھ ماہ کے اندر کراچی پورٹ ٹرسٹ، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اور سپارکو سے زمین کا قبضہ ختم کرایا جائے۔

عدالت میں حیدرآباد میں محکمۂ جنگلات کی 1450 ایکڑ زمین پر قبضے کے خلاف درخواست کی سماعت کے موقعے پر حیدرآباد ڈپٹی کمشنر نواز سوہو نے بتایا کہ عدالت کے حکم پر زمین کا قبضہ محکمہ جنگلات کے حوالے کیا گیا تھا۔

محکمۂ جنگلات کے کنزرویٹر کا کہنا تھا کہ یہ قیمتی زمین ہے اور اس پر قبضے کا خدشہ ہے جس کو بچانے کے لیے وہاں پولیس چوکی قائم کی جائے۔

اسی بارے میں