ہلمند میں پانچ دن سے لڑائی جاری، درجنوں طالبان ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Image
Image caption ہلمند میں پانچ دن سے لڑائی جاری ہے

جنوبی افغانستان میں حکام کے مطابق چار فوجی چوکیوں پر لڑائی میں کم از کم سو طالبان جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغانستان کے صوبے ہلمند کے ضلع سنگین میں پانچ دن سے جاری لڑائی میں پینتیس شہری اور اکیس افغان فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

علاقے کے عمائدین کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں دو ہزار خاندان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہلمند میں ایک دھماکے میں تین امریکی فوجی بھی مارے گئے تھے۔ اس علاقے میں تعینات برطانوی فوج نے گزشتہ ماہ یہ اگلی فوجی چوکی خالی کر دی تھی اور لشکر گاہ میں واقع فوجی اڈے کیمپ بیسچیئن منتقل ہو گئی تھیں۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کے مطابق ضلع سنگین ہلمند صوبے کے شمالی حصے میں واقع ہے اور دفاع اعتبار سے ایک حساس علاقہ ہے جہاں منشیات کے سمگلر اور طالبان بہت سرگرم ہیں اور اکثر اوقات مشترکہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ ہلمند صوبے کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔

پانچ روز سے جاری ان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

منگل کو طالبان نے دعوی کیا تھا کہ اس لڑائی میں ان کے صرف دو جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ چالیس سے زیادہ فوجیوں کو انھوں نے ہلاک کر دیا ہے۔

افغانستان کی کوئی فضائی فوج نہیں ہے اور صدر حامد کرزائی نے افغان فوج کو شہری علاقوں میں کارروائیوں کے دوران نیٹو فوج سے فضائی مدد طلب کرنے سے منع کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق افغان حکومت نے فوری طور پر اضافی نفری روانہ کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ہلمند اور جنوبی افغانستان کے علاقوں میں طالبان کی کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں

افغان وزیر داخلہ کے ترجمان صدیق صادق نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ طالبان کی طرف سے ایک بڑا حملہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اضافی فوجی نفری کو علاقے میں بھیجا جا رہا ہے اور سرکاری فوج کے ہاتھ سے کوئی علاقہ نہیں نکلا ہے۔

مقامی افغان حکام کے اندازوں کے مطابق اس حملے میں آٹھ سو سے ایک ہزار طالبان جنگجو شامل تھے۔ یہ طالبان حملہ آور بھاری اسلح سے لیس تھے اور انھوں نے بڑے منظم انداز میں حملہ کیا۔

ہلمند میں ایک مقامی اہلکار نے بتایا کہ ایک فوجی چوکی پر پولیس نے شدید لڑائی کی لیکن انھیں کوئی کمک نہیں مل سکی جس کی وجہ سے طالبان نے اس پر قبضہ کر لیا۔

سنگین ضلع میں جاری یہ لڑائی دوسرے ملحقہ علاقوں تک بھی پھیل گئی ہے جس میں کجکی، موسی کلا اور نوزاد شامل ہیں۔

ہلمندصوبے کے گورنر کے ترجمان سید عمر زاوک نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ دن کی اس لڑائی میں کم از کم اکیس فوجی ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شراط پر بعض حکم نے بتایا کہ پینتیس افغان فوجی اور اس سے دگنی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو طالبان نے ہلاک کر دیا ہے۔

بہت سے شہری پیدل سفر کر کے صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ پہنچے ہیں۔

بے گھر ہونے والے شہری بے سرو سامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔

ایک قبائلی سرداد نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ شہریوں کو ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

حاجی اختر محمد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت طالبان کے حملے روکنے میں کچھ نہیں کر سکتی تو انھیں شہریوں کو اسلح فراہم کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے آپ کو ان کے حملوں سے محفوظ رکھ سکیں۔

ایک ماہ کے عرصے میں لشکر گاہ میں برطانوی فوج اپنا اڈہ کیمپ بیسچیئن خالی کر کے واپس جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں