’امریکہ نے بھارتی اشاروں پر دہشت گرد قرار دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Jamat ud Dawah
Image caption امریکہ اس سے پہلے جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ سعید کو بھی دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور ان پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام ہے

جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید نے امریکی دفترِ خارجہ کی جانب سے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ترمیم کے بعد اپنی جماعت اور اس سے منسلک تین تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے فیصلے کو بھارتی ڈکٹیشن قرار دیا ہے۔

حافظ سعید نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان الزامات کا ثبوت پیش کرے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ سعید کا کہنا تھا کہ امریکہ نے چند سال پہلے بھی ان پر الزامات لگا کر ان کے سر کی قیمت مقرر کی تھی لیکن وہ اس کے ثبوت پیش نہیں کر سکا اور اب ایک مرتبہ پھر امریکی دفترِ خارجہ کی جانب سے ان کی جماعت پر ثبوت کے بغیر دہشت گرد ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔

’ بھارت ہم سے پریشان ہے اور بھارت ہی کی ڈکٹیشن پر ہمارے خلاف فیصلہ کیا گیا۔ اگر ان کے پاس ثبوت ہے تو پیش کریں اگر نہیں تو اپنے رویے کو تبدیل کریں اور اگر نہیں کر سکتے تو بھاڑ میں جائیں۔‘

امریکی وزارتِ خارجہ نے لشکر طیبہ کے دو اعلیٰ رہنماؤں نذیر احمد چوہدری اور محمد حسین گل کو بھی بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا ہے۔

اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حافظ سعید کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک شخص ریٹائرڈ ہے اور کوئی کام کرنے کے قابل نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ 80 سال کے ایک شخص کو دہشت گرد قرار دے کر امریکہ جماعت الدعوۃ کو بدنام کرنے کی سازش کر رہا ہے جس پر اسے شرم آنی چاہیے۔

جماعت الدعوۃ کے امیر کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم فوجی آپریشن سے بے گھر ہونے والے پاکستانیوں کے مدد کے لیے کام کر رہی ہے اور تعلیم کے شعبے میں ان کی خدمات ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی عدالتیں ان کی جماعت کو شفاف قرار دے چکی ہیں اور یہ فیصلہ ہی ان کے لیے محترم ہے۔

’پاکستان کی عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں لکھا ہے کہ جماعت الدعوۃ پر کوئی پابندی نہیں۔ ملک کے اندر اس کا کردار صاف اور شفاف ہے۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلے ہمارے لیے محترم ہے۔ امریکہ کا فیصلہ ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔‘

امریکہ اس سے پہلے جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ سعید کو بھی دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور انھیں پکڑوانے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا گیا ہے۔

حافظ سعید کا کہنا تھا: ’ہم نے اقوام متحدہ میں دو مرتبہ کیس دائر کیا، کئی بار یاد دہانی کروائی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ہم نے لکھا کہ کس بنیاد پر امریکہ ہمیں دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔ اس پر فیصلہ کرو کیونکہ ہماری عدالتیں تو فیصلہ کر چکیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ ہو یا بھارت، ہماری عدالتوں کو کوئی مانتا ہی نہیں۔‘

جن چار تنظیموں کو غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، ان میں جماعت الدعوۃ کے علاوہ انفال ٹرسٹ تحریک حرمت رسول اور تحریک تحفظ قبلۂ اول شامل ہیں۔

امریکی دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ چاروں تنظیمیں دراصل لشکر طیبہ ہی کے مختلف نام ہیں۔

اسی بارے میں