ٹینک کا استعمال مشکل، فوج کو دشواری پیش آئے گی: جنرل اطہر عباس

Image caption شمالی وزیرستان میں ٹینک کا استعمال بہت مشکل ہو گا اور اس وجہ سے پیادہ افواج کو پیش قدمی میں دشواری پیش آئے گی: جنرل اطہر عباس

پاکستانی فوج کے سابق ترجمان میجر جنرل (ریٹائرڈ) اطہر عباس کا کہنا ہے کہ زمینی کارروائی میں شمالی وزیرستان کے جغرافیائی خدوخال شدت پسندوں کے لیے سازگار ثابت ہوں گے جبکہ فوج کو اسی وجہ سے پیش قدمی میں غیر معمولی مشکلات ہو سکتی ہیں۔

شمالی وزیرستان میں اب تک فوج نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے ہی کیے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ بہت جلد وہاں زمینی کارروائی کا بھی آغاز کر دیا جائے گا۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں آرمرڈ کور سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل (ریٹائرڈ) اطہر عباس کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے مقابلے میں شمالی وزیرستان کا علاقہ زمینی کارروائی کے لیے مشکل ہے۔

’شمالی وزیرستان میں زیادہ تر تنگ گھاٹیاں، گھنے جنگل اور اونچی نیچی پہاڑیاں ہیں۔ ایسا علاقہ گوریلا لڑائی میں دفاع کرنے والوں کے حق میں ہوتا ہے۔ وہ چھپ کر حملے کرنے کے بعد کٹی پھٹی زمین اور ندی نالوں کے ذریعے چھپ کر فرار ہو سکتے ہیں۔‘

جنرل اطہر عباس اس سے پہلے سوات، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کی فوجی کارروائیوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے میں نسبتاً بڑی وادیاں اور کھلے میدان ہیں جہاں ٹینک استعمال ہو سکتے ہیں۔

’شمالی وزیرستان میں ٹینک کا استعمال بہت مشکل ہو گا۔ اس وجہ سے پیادہ افواج کو پیش قدمی میں دشواری پیش آئے گی اور اس میں خاصا وقت صرف ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے جنوبی وزیرستان آپریشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پر شدت پسندوں نے رہائشی علاقوں میں مورچے بنا رکھے تھے جن کی وجہ سے ٹینکوں کے بغیر پیدل فوج کو آگے بڑھنے میں شدید مشکل پیش آ رہی تھی۔

’جندولہ کا آپریشن اسی وجہ سے بہت مشکل اور طویل تھا اور اس میں فوج کا خاصا جانی نقصان بھی ہوا تھا۔ لیکن اس وقت فوج کو ٹینکوں کی مدد حاصل تھی جن کے شمالی وزیرستان میں استعمال کے امکانات بہت کم ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کے جن علاقوں میں شدت پسند موجود ہیں ان پر فوج کشی کے دوران فوج کو شہری علاقوں میں جنگ کے روایتی طریقے استعمال کرنے ہوں گے جن میں ہدف بننے والے علاقے کو تقسیم کر کے چاروں سمت سے اس پر حملہ کرنا اور علاقے کی صفائی کرتے چلے جانا شامل ہے۔

اسی بارے میں