پاکستان بھارت بھائی بھائی لیکن دوستی ابھی دور ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رمضان شروع ہونے والا ہے جس کی وجہ سے تعلقات میں مزید پیش رفت میں تاخیر ہوگی

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایک نئے موڑ کا آغاز مصافحے سے ہوا جس کے بعد نریندر مودی نے نواز شریف کی ماں کے لیے شال اور اس کے جواب میں مودی کی ماں کے لیے نواز شریف نے ساڑی تحفتاً بھیجی۔

اس کے بعد دونوں وزرا اعظم کے درمیان سوشل میڈیا پر اور روایتی خط و کتابت کے ذریعے تبادلۂ خیال ہوا۔

ایک بھارتی اخبار نے سوال اٹھایا کہ کیا ’ماں کے لیے محبت‘ کی وجہ سے دونوں حریف پڑوسی ممالک کے درمیان نئے رشتے استوار ہو رہے ہیں؟

بھارت کے نئے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی بعض لوگوں نے تبصرہ کیا کہ ہندو قوم پرست ہونے کی وجہ سے نریندر مودی پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

لیکن نواز شریف کی طرف سے نریندر مودی کی تقریبِ حلف برداری میں دعوت پر شرکت کے ایک مہینے بعد ان دونوں کی ماؤں کو بہت کام کرنا ہوگا۔

دنوں طرفین کا کہنا ہے کہ ان کے سفارت کار بات چیت کر رہے ہیں، لیکن سیکریٹری خارجہ کی سطح پر اب تک مذاکرات شروع نہیں ہو سکے جس پر دنوں ممالک کے وزرائے اعظم نے اتفاق کیا تھا۔

رمضان شروع ہونے والا ہے جس کی وجہ سے تعلقات میں مزید پیش رفت میں تاخیر ہوگی۔

ایک پرامید پاکستانی اخبار نے خبر دی تھی کہ اسلام آباد اور دہلی کے درمیان پسِ پردہ بات چیت کو بحال کیا جا رہا ہے لیکن اس خبر کو دنوں طرفین نے مسترد کر دیا۔

یہ بات خارج از امکان نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات ہو رہے ہوں۔ سرکاری پوزیشن جو بھی ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں طرفین اچھے تعلقات کو استوار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

جب دہلی کے پریس کلب نے اسلام آباد سے باورچی بلا کر پاکستانی کھانوں اور موسیقی کا اہتمام کیا تو سرخ مرچوں سے گرل پر تیار کردہ گوشت جلد ختم ہو گیا کیونکہ صحافی اپنی فیملیوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے اور وہ کھانے ساتھ لے جانے کے لیے ٹِفن بھی لے کر آئے تھے۔

شاید اسی اچھی خوراک کی وجہ سے گذشتہ ہفتے تھائی لینڈ میں ملاقات کے موقعے پر بھارتی اور پاکستانی حکام کے درمیان غیر رسمی بات چیت ہوئی۔ لیکن ان کی طرف سے جاری بیان سے کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دی۔

دہلی میں خیال کیا جاتا ہے کہ کسی قسم کی نئی بات چیت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایک ترجمان کے مطابق ’پہلے سے روڈ میپ یا طریقۂ کار موجود ہے جس پر ہم نے دو سال پہلے اتفاق کیا تھا،‘ اور جس میں معاشی تعلقات بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

بھارتی اہلکار نے کہا کہ اب اس کا دار و مدار پاکستان پر ہے کہ وہ واہگہ کی سرحد سے سامان کی ترسیل کی اجازت دے کر تعلقات میں بہتری کے لیے قدم اٹھائے جس کے جواب میں بھارت اسی قسم کا قدم اٹھائے گا۔

اسلام آباد میں رائے منقسم ہے لیکن پاکستان کی وزارتِ خارجہ چیزوں کو امید کی چمک دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک پاکستانی اہلکار نے کہا کہ ’ہم واہگہ سرحد کے ذریعے سامان کی ترسیل پر غور کر رہے ہیں۔‘ لیکن انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکریٹری خارجہ کی ملاقات ہو جائے تو یہ ’روڈ میپ‘ مذاکرات کا ایک کلیدی حصہ ہوگا۔

کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کے نریندر مودی کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے خلاف تھی اور وہ اب بھی مودی کی حکومت کے بارے میں محتاط ہے۔

پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ’ابھی تک کوئی منفی چیز سامنے نہیں آئی،‘ لیکن ’ہمیں بھارت کی طرف سے جواباً مثبت قدم کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘

دنوں ممالک کے درمیان کلچر ہم آہنگی اور ہندی اور اردو زبانوں کے درمیان یکسانیت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ پاکستان اور بھارت بھائی بھائی ہیں لیکن ان بھائیوں کے درمیان دوستی اب بھی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔

اسی بارے میں