’افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں‘

Image caption ہماری خواہش ہے کہ افغان حکومت اپنی سرحد پر بھی سکیورٹی کے موثرانتظامات کرے: پاکستانی دفترِ خارجہ

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ افغانستان میں موجود ہیں اور افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر رنگین سپانتا کے دورہ پاکستان کا مقصد بھی وزیرستان آپریشن کے بعد سرحد پر پیدا ہونے والی صورت حال پر بات چیت کرنا ہے۔

یہ بات وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے اور ’ہماری خواہش ہے کہ افغان حکومت اپنی سرحد پر بھی سکیورٹی کے موثر انتظامات کرے تاکہ پاکستان کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں بروقت کامیابی مل سکے۔‘

پاکستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ افغان حکومت کسی دہشت گرد کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

دوسری جانب افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی رنگین سپانتا نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے تحریری بیان کے مطابق افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی نے اپنے وفد کے وزیر اعظم سے ملاقات میں دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

اس ملاقات میں افغان مشیر برائے قومی سلامتی کا ساتھ پاکستان میں افغانستان کے سفیر، ڈپٹی سیکریٹری خارجہ، وزیرِ دفاع اور افغانستان میں بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر نے دیا۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان کی معاونت وزیراعظم کے مشیر خصوصی طارق فاطمی اور مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز اور سیکریٹری برائے خارجہ امور عزیز چوہدری نے کی۔

بریفنگ میں تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں امن وامان قائم ہو اور حال ہی میں افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دونوں مرحلوں پر پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا۔

ہفتہ وار بریفنگ میں وزارت خارجہ نے کہا کہ گذشتہ ہفتے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں ایک وفد نے کابل کادورہ کیا تھا۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے وفد نے بھی افغان قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ کسی بھی دہشت گرد کواپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے سرحد پر نہ صرف موثراقدامات کرے بلکہ شمالی وزیرستان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے جاری آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونے والے دہشت گردوں کو روکنے کے لیے سرحد پرسکیورٹی سخت کرے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے پاکستان نے کسی ملک سے امداد کی اپیل کے سوال پر تسنیم اسلم نے کہا کہ وزیرستان سے بے گھر ہونے والے پاکستانی ہیں۔

’ہم سب کا فرض ہے کہ ان کی ہر صورت میں خدمت کریں اور انھیں جوسہولتیں درکار ہیں وہ فراہم کریں۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے ازخود امداد کی پیش کش کی ہے جو زیرِ غور ہے جبکہ پاکستان نے کسی ملک نے اس بارے میں امداد کی اپیل نہیں کی ہے۔‘

سری لنکا میں پاکستانی خاندان

سری لنکا میں پاکستانی خاندانوں کی جانب سے پناہ کی درخواست دینے اور پاکستان میں ان کی جان کو بعض اداروں کی جانب سے خطرات لاحق ہونے کی اطلاعات کے حوالے سے تسنیم اسلم نے بتایا کہ ان افراد کوکسی ادارے سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

’پاکستان سے اکثر لوگ روزگار کی تلاش میں مختلف ممالک جاتے رہتے ہیں، تاہم حکومت اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے اس بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ سری لنکا کی حکومت سے بھی ہمارا رابطہ ہے تاکہ اگرضرورت ہوئی تو ان خاندانوں کو پاکستان واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔

اسی بارے میں