’ارسلان افتخار کی متنازع تقرری موضوع بحث‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس تقرری کے حوا لے سے مسلم لیگ(ن) کی لیڈر شپ کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں تھا: وزیرِاعلیٰ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار کی متنازع تقرری کی باز گشت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنائی دی ہے۔

اس تقرری کی بازگشت سنیچر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت سنائی دی جب حزب اختلاف کے رکن سردار عبد الرحمان کھیتران نے نکتہ اعتراض پر اس معاملے پر بات کی۔

شعیب سڈل کمیشن تلحلیل،’رپورٹ منظرعام پر لائی جائے‘

ڈاکٹر ارسلان، افتخار چوہدری کا امتحان

ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق اس حوالے سے جو نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے اس میں ارسلان افتخار کو ’بزنس ٹائیکون یعنی بڑا کاروباری‘ ظاہر کیا گیا ہے۔

ارسلان افتخار سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بڑے بیٹے ہیں اور وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔

بولان میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ارسلان افتخار نے ڈاکٹری کے شعبے کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی بجائے پولیس اور ایف آئی اے میں ملازمت کو ترجیح دی۔

پولیس اور ایف آئی اے میں ملازمت کے حوالے سے نہ صرف وہ میڈیا میں تنقید کی زد میں رہے بلکہ ان پر بحریہ فاؤنڈیشن کے سربراہ ملک ریاض نے بھی انتہائی سنگین الزامات لگائے۔

سردار عبد الرحمان نے کہا کہ تجربہ کار افراد کو چھوڑ کر’ایک بدنام زمانہ شخص کو، جس کے ابھی تک نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں سکینڈل چل رہے ہوں، وائس چیئرمین بنانے میں حکومت کی کیا مجبوری تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرتی ہے لیکن بلوچستان میں کیا کوئی ایسا دیانتدار شخص نہیں تھا جو پنجاب اور پوری دنیا سے سرمایہ کاروں کو کھینچ کر لاتا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق حکومتی اراکین کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

انھوں نے ایوان میں موجود وزیراعلیٰ بلوچستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ صوبے پر رحم کریں اور ترس کھائیں۔‘

سردار عبدالرحمان کھیتران پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے گذشتہ عام انتخابات کے حوالے سے الزامات کو دہرانا چاہتے تھے مگر سپیکر جان محمد جمالی نے انھیں اجازت نہیں دی۔

بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ارسلان افتخار اگرچہ متنازع ہے اور وہ سردار عبد الرحمان کھیتران کی اس بات سے متفق ہیں کہ انھیں اس تقرری کے سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا لیکن وزیراعلیٰ ان کے ٹیم لیڈر ہیں اس لیے وہ اس فیصلے پر ان کے ساتھ ہیں۔

وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ارسلان افتخار کو بزنس ٹائیکون قرار دینا غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا ارسلان افتخار کے معاملے کو عمران خان سے نہ جوڑا جائے کیونکہ عمران خان کے اپنے قصے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس تقرری کے حوا لے سے مسلم لیگ(ن) کی لیڈر شپ کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ذمہ داری سے کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ تقرری خود کی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا بلوچستان کے ساتھ ایک رشتہ ہے اسی لیے انھوں نے ان کی تقرری کی۔

اسی بارے میں