ایک بار پھر تنازع، قاسم خان مسجد نے چاند نظر آنے کا اعلان کردیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام گیارہ بجے کے بعد خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں واقع قاسم خان مسجد کے مفتی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ان کو چاند نظر آنے کی 54 شہادتیں موصول ہوئی ہیں

پاکستان میں رمضان کے مہینے کے آغاز پر ایک پھر تنازع اس وقت کھڑا ہو گیا جب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا کہنا ہے پہلا روزہ پیر کو ہو گا لیکن پشاور کی قاسم خان مسجد نے اعلان کیا کہ پہلا روزہ اتوار کو ہو گا۔

ہفتے کے روز کراچی میں منعقد ہونے والے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ ماہِ رمضان کا چاند نظر نہیں آیا ہے۔

اعلان میں کہا گیا کہ ملک بھر میں کہیں بھی رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا اور پہلا روزہ پیر30جون کو ہوگا۔

ماہر موسمیات کے مطابق چاند کی عمرمغرب تک 30 گھنٹے 45 منٹ اور نظر آنے کا دورانیہ 41 منٹ تھا۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام علاقائی رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی ان کے صدر دفاتر میں ہوئے اور ان کو بھی چاند نظر آنے کی کوئی شہادتیں موصول نہیں ہوئی ہیں۔

تاہم دوسری جانب شام گیارہ بجے کے بعد خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں واقع قاسم خان مسجد کے مفتی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ان کو چاند نظر آنے کی 54 شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔

قاسم خان مسجد کے مفتی پوپلزئی نے اعلان کیا کہ پہلا روزہ اتوار کو ہوگا۔

مسجد قاسم خان میں رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کی۔

مسجد قاسم خان میں رات 11بجے تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئیں، جن میں چارسدہ، ہنگواور بنوں نمایاں ہیں۔

غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی پوپلزئی نے شہادتوں کی تصدیق کے بعد باقاعدہ اعلان بھی کردیا۔

ماضی میں بھی

ماضی میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے درمیا ن شدید اختلافات چلے آئے ہیں اور یہ کمیٹیاں ایک دوسرے کی شہادتوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری رہی ہیں۔

صوبہ سرحد میں ویسے تو چارسدہ، مردان اور جنوبی اضلاع میں مقامی طورپر رویت ہلال کی کئی چھوٹی بڑی کمیٹیاں قائم ہیں جو ہر سال اپنے طور پر فیصلے کرتی ہیں۔ تاہم ان میں مسجد قاسم علی خان پشاور کی غیر سرکاری کمیٹی سب سے بااثر سمجھی جاتی ہے۔

اس کمیٹی کے اعلان پر عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ صوبہ کے تقریباً ستّر سے اسّی فیصد لوگ رمضان اور عید الفطر مناتے ہیں۔ صوبہ کے دیگر اضلاع کی کمیٹیوں کے مسجد قاسم علی خان کے ساتھ رابطے بھی رہتے ہیں۔

اندرون شہر میں واقع مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی کا کہنا ہے کہ ان کی مسجد تقریباً گزشتہ دو سو سالوں سے رمضان کی آمد اور عید الفطر کے حوالے سے فتویٰ جاری کرنے کا مرکز رہا ہے۔ اس کے علاوہ پوپلزئی خاندان پچھلے اسی سالوں سے اس مسجد کا انتظام بھی کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں