ضربِ عضب میں اہم کمانڈر سمیت 11 شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption فوج کے ٹینک شمالی وزیرستان میں محاصرے میں لیے گئے ایک مقام کے اطراف گشت کر رہے ہیں: آئی ایس پی آر

پاکستان کی فوج کے مطابق سنیچر کو فوجی آپریشن ضرب عضب کے دوران میر علی میں 11 شدت پسندوں ہلاک اور چھ ٹھکانے تباہ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی پاکستان کی زیرِ قیادت ہو رہی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں عام شہریوں کو آپریشن سے محفوظ رکھنے کے لیے آبادی کو علاقے سے نکال لیا گیا ہے اور مسلسل اعلان کیے جا رہے ہیں کہ کسی بھی وجہ سے علاقے میں پھنسے رہ جانے والے علاقوں سے نکل جائیں۔

’نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ‘

’امدادی کارروائیاں مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں‘

محکمۂ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے جمعے کو واشنگٹن میں دی جانے والی پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان میں حکومت کی عملداری اور اس کا داخلی استحکام مضبوط بنانے کی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری کارروائی کے نیتجے میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

Image caption شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے جاری آپریشن ضرب عضب شروع ہوئے دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ اس آپریشن سے شمالی وزیرستان کی چھ تحصیلوں سے چار لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں

ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی صورتِ حال سے پوری طرح آگاہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت نقل مکانی سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بین الاقوامی رفاعی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کےعلاوہ تعلیم، سماجی اور توانائی کےشعبوں میں بھی پاکستان سے تعاون کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فضائی حملوں میں 11 شدت پسندوں کو ہلاک اور ان کے چھ ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کو میر علی کے قریب شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو جیٹ طیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان مطابق شمالی وزیرستان سے عام شہریوں کو نکال لیا گیا ہے اور علاقے میں شہریوں کے موجود نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے علاقے سے نکلنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بیان کے مطابق میر علی میں فوجی آپریشن ضرب عضب میں 11 شدت پسند ہلاک اور ان کے چھ ٹھکانے تباہ ہوئے

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’میران شاہ میں کالعدم تحریکِ طالبان کا اہم کمانڈر عمر مارا گیا جبکہ اس کارروائی میں القاعدہ کے ایک اہم رکن کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق القاعدہ کا یہ رکن بارودی مواد اور خودکش جیکٹ بنانے کا ماہر ہے۔

بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کا محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا ہے جبکہ اب تک 19 شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیےہیں۔

اس سے پہلے پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی مشکلات کے حل کے لیے فوج اور حکومت مل کر کام کر رہے ہیں۔

جمعے کو بنوں کے دورے کے موقعے پر انھوں نے ہر خاندان کے لیے امدادی پیکیج کو بڑھا کر 20 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس موقع پر نواز شریف نے کہا تھا کہ ماہِ رمضان کے دوران ہر خاندان کو 20 ہزار روپے کا خصوصی الاؤنس بھی دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں 15 جون کو آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا جس میں فوجی حکام کے دعوے کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کی تعداد 200 سے زائد ہو چکی ہے اور ان کے اہم مراکز پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے جاری آپریشن ضرب عضب شروع ہوئے دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ اس آپریشن سے شمالی وزیرستان کی چھ تحصیلوں سے چار لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں