سوتیلی ماں کے سگے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جب 113 سال سے فرنٹیر کرائمز ریگولیشنز کے درے سہہ رہے ہیں تو وزیرستانی یہ سب کچھ بھی سہہ لیں گے

مان لیا کہ من بھر گیہوں میں تھوڑا بہت گھن بھی پس جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ بھی ممکن ہے کہ سیر بھرگیہوں میں ایک من گھن پس جائے؟ بالکل ممکن ہے اگر چکی شمالی وزیرستان کی ہو۔

آپریشن ضربِ عضب نہ تو اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہے نہ ہی آخری۔ نائن الیون سے اب تک قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ میں سات بڑے آپریشن ہو چکے ہیں۔

توقع یہی ہوتی ہے کہ ہر نئے آپریشن میں جو بھی اچھا برا تجربہ ہاتھ آئے گا اس کی روشنی میں اگلا آپریشن عسکری و انسانی اعتبار سے اور بہتر ہوگا۔ لیکن جس طرح سے لگ بھگ پانچ لاکھ انسانی مرغیوں کو شمالی وزیرستان کے دڑبے سے ہنکایا گیا اس سے تو نہیں لگتا کہ یہ وہی ریاست، فوج اور مقامی انتظامیہ ہے جس نے سوات آپریشن سے پہلے پہلے مقامی و بین الاقوامی اداروں کی مدد سے کیمپوں کا پیشگی نظام قائم کر کے مالاکنڈ ڈویژن خوش اسلوبی اور نظم و ضبط کے ساتھ خالی کروایا تھا۔

دیکھا جائے تو شمالی وزیرستان کے پناہ گزینوں کی تعداد سوات آپریشن متاثرین کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم ہے لیکن پیشگی انتظامات لگ بھگ زیرو رہے۔ آپریشن شروع ہونے کے دو ہفتے بعد اب کہیں جا کے انتظامی آثار دکھائی پڑنے لگے ہیں۔

ذرا تصور کریں کہ کسی ایک روز لاہور، فیصل آباد، پنڈی، کراچی یا حیدرآباد کے کچھ مخصوص علاقوں کو دہشت گردی اور دیگر خوفناک جرائم سے پاک کرنے کی اچانک عسکری کارروائی شروع ہونے کے بعد یہاں کے چھ لاکھ مکینوں سے کہا جائے کہ جتنا جلد ممکن ہو غیر معینہ عرصے کے لیے گھر بار چھوڑ کر شہر کی حدود سے نکل جاؤ اور انھیں یہ تک معلوم نہ ہو کہ یہاں سے کہاں اور کیسے جانا ہے، رکنا کہاں ہے، راستے میں اتنے لوگوں کو کوئی پانی بھی پلائے گا، کھانے کا کون پوچھے گا، بیماروں کو کہاں لادے لادے پھریں گے، نوزائدہ بچوں کے دودھ ، بڑے بچوں کی تعلیم اور پردہ دار خواتین کے نہانے دھونے پکانے کا کیسا انتظام ہو گا؟

اور پھر حکومت لاہور، فیصل آباد، پنڈی، کراچی اور حیدرآباد کے ان متاثرین کو نکالے جانے کے ہفتہ بھر بعد فی خاندان 15 ہزار روپے کی ادائیگی اس مد میں کر دے کہ یہ آپ کے کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کے فوری اخراجات ہیں اور پھر ان سے یہ کہا جائے کہ اپنی مدد آپ کے تحت سو پچاس کلومیٹر پرے ایک ڈسٹری بیوشن پوائنٹ پر رجسٹریشن کروا کے مہینے بھر کا راشن لے لو۔ اور پھر ان سے کہا جائے کہ یہ جو لق و دق زمین نظر آ رہی ہے یہ کوئی ویرانہ نہیں تمہارے قیام کا کیمپ ہے۔ اپنے 110 کلو وزنی راشن کے تھیلے سر سے اتار کر زمین پر رکھو اور ان تھیلوں کو تکیہ سمجھ کر دو دو تین تین سر رکھ کے سو جاؤ۔

کیا کہا خیمے؟ وہ تو ابھی پانی کے جہاز سے آ رہے ہیں۔

کیمپ میں پینے کا پانی؟ کل پرسوں انشااللہ ایک آدھ ٹینکر ضرور چکر لگائے گا یہاں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ۔۔۔کیا کہا خیمے؟ وہ تو ابھی پانی کے جہاز سے آ رہے ہیں

دیگچی، پرات، توا، رکابی، گلاس؟ ہاں کچھ این جی اوز سے بات ہوئی تو ہے۔ امید ہے کہ اگلے دس پندرہ دن میں برتن بھی آجائیں گے تب تک خشک راشن مٹھی بنا کے پھانکتے رہو۔

ارے ہاں تمہیں تو شاید بیت الخلا کی بھی ضرورت ہوگی نا۔یہ ہم نے چار گڑھے کھود دیے ہیں اور ہر گڑھے پر دو دو پٹڑے بھی رکھ دیے ہیں اور ٹاٹوں کی چار دیواری بھی کھڑی کر دی ہے۔ بہتر ہوگا کہ خواتین یہ بیت الخلا استعمال کرلیں۔ باقی لوگ یہ سامنے والے جنگل میں چلے جایا کریں۔

بجلی؟ کیا تمہارے پاس ٹارچ والا موبائل فون نہیں؟ تو پھر؟

بالکل پریشان مت ہو۔ پوری قوم آزمائش کی گھڑی میں دل و جان سے تمہارے ساتھ ہے۔ بے صبری کو لگام دو۔ انشااللہ دو تین ماہ میں پورا انتظام قابو میں آجائے گا۔ تمہیں باقاعدہ ماہانہ مالی امداد بھی ملے گی۔ تب تک یہ سمجھ لو کہ ملک کے لیے عظیم قربانی دے رہے ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تم کسی اور صوبے میں جانے کی فرمائش کر بیٹھو۔ جو ملے گا یہیں ملے گا۔ یہاں سے گئے تو کچھ نہ ملے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یقیناً یہ اچانک سے نکالے گئے لاکھوں لوگ اس نجاتیہ آپریشن سے بہت خوش ہوتے اگر انھیں معلوم پڑ جاتا کہ ریاستی نظام بہرحال طالبانی انتظام سے قدرے بہتر ہوتا ہے

تو کیا یہ ریاست اور اس کے ادارے کسی ایسی ہی ابتلا میں پاکستان کے چار پانچ بڑے شہروں کے ممکنہ پناہ گزینوں کے ساتھ ویسی ہی برابری برت سکتے ہیں جس سے فی الوقت پانچ تا چھ لاکھ شمالی وزیرستانی لطف اندوز ہو رہے ہیں؟ ایسا ذرا کر کے تو دیکھیے۔ میڈیا کے نوحہ خواں سڑک سڑک احتجاجی زنجیروں کا ماتم نہ بچھوا دیں، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسلام آباد کے ایوانِ وزیرِ اعظم تک ہڑا ہڑی نہ پڑ جائے اور جی ایچ کیو بیک فٹ کو فرنٹ فٹ نہ کہنے لگے تو پھر اس پیشۂ خبرناکی سے میرا استعفیٰ قبول۔

ہاں یہ وزیرستانی سب کچھ سہہ لیں گے۔ جب 113 سال سے فرنٹیر کرائمز ریگولیشنز کے درے سہہ رہے ہیں، جب ایک عشرے سے طالبانی فسطائیت کے عادی ہو چلے ہیں تو پھر 40 سینٹی گریڈ سورج تلے کلومیٹر طویل لائنوں میں ایک بوری خشک راشن کے لیے کھڑے کھڑے تین ڈنڈے تشریف پر کیوں نہ سہیں گے۔ ہاں وہ معاف بھی کردیں گے۔ مگر بھولیں گے نہیں۔

یقیناً یہ اچانک سے نکالے گئے لاکھوں لوگ اس نجاتیہ آپریشن سے بہت خوش ہوتے اگر انھیں معلوم ہو جاتا کہ ریاستی نظام بہرحال طالبانی انتظام سے قدرے بہتر ہوتا ہے۔ لیکن کیا ریاست انھیں اپنا بچہ بھی مانتی ہے؟ مگر فرق کیا پڑتا ہے؟ بچے تو سوتیلی ماؤں کے بھی پل پلا ہی جاتے ہیں۔

اسی بارے میں