’کیبل آپریٹرز کے لیے آگے کنواں پیچھے کھائی کی سی صورتحال ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کچھ نامعلوم نمبرز سے فون آئے کہ جیو جیسے گستاخ اور ملک دشمن چینل کو بند رکھا جائے ورنہ انجام برا ہوگا: امجد نذیر

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر صادق آباد میں جیو نیوز چلانے کی پاداش میں ایک کیبل آپریٹر کا دفتر جلادیا گیا جہاں ان کا سارا سیٹ اپ موجود تھا۔

اس واقعےکی وجہ سےتحصیل صادق آباد میں کیبل کی نشریات مکمل طور پر بند ہوگئی ہیں۔

سٹی کیبل نیٹ ورک کے مالک امجد نذیر کے مطابق 20 جون کو انہوں نےجیو کےلائسنس کی معطلی کی مدت مکمل ہونے پرعلاقے میں موجود پیمرا کے انسپکٹر نے انہیں فوری طور جیو بحال کرنےکی ہدایت کی۔

امجد نذیرکےمطابق اسی روز انہیں کچھ نامعلوم نمبرز سے فون آئے کہ ’جیو جیسےگستاخ اور ملک دشمن چینل کو بند رکھاجائے ورنہ انجام برا ہوگا‘۔ امجد نذیر کےمطابق انہوں نے یہ پیغام اس لیے نظر انداز کیا کیونکہ دھمکیاں ملنا کوئی نئی بات نہیں تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ان کا دفتر ایک پچیس مرلے کے مکان میں ہے اور جہاں سے وہ اپنا سسٹم چلاتے ہیں۔ ان کے بقول جمعرات کی شب ڈیڑھ بجے تقریباً آٹھ افراد جن کی ڈاڑھیاں بہت لمبی تھیں، گھس آئے اور وہاں موجود دو افراد کو رسیوں سے جکڑ کر گاڑی میں ڈالا اور دفتر میں موجود تمام سامان پر کیمیکل چھڑک کر آگ لگا دی۔

کیبل نیٹ ورک کے ملازمین کو دور ویرانے میں لے جاکر چھوڑ دیا اور کہا کہ جیو جیسے ملک دشمن اور گستاخ چینل کو چلانے کی جسارت پر یہ سزا ملی ہے۔

امجد نذیر کے مطابق ان کے دونوں ملازمین کو کہا گیا کہ کیبل کے مالکان کو سمجھا دیا جائے ورنہ اس کا انجام برا ہوگا کیونکہ ان کے پاس مالکان کےتمام رشتےداروں کامکمل پتہ موجود ہے۔

امجد نذیر کےمطابق انہوں نے پیمرا کے دباؤ پر جیوکھولا تھا جس کا نتیجہ انہیں بھگتنا پڑا۔

دوسری جانب علاقے کے تھانیدار عباس اختر کے مطابق امجد نذیر نے دھمکی ملنے سے متعلق انھیں آگاہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نےمزید بتایا کہ نامعلوم افراد کے خلاف اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیاگیا ہے مگر مدعی کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کےدو افراد کو اغوا کیا گیا اور پھر ویرانے میں جاکر چھوڑا گیا۔

ان کے مطابق مدعی کی جانب سےدرخواست میں واقعےکی وجہ جیو چلانا بھی نہیں بتائی گئی ہے۔

کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین خالد آرائیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پر پیمرا کی جانب سے جیو نیوز کی نشریات چلانے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ مختلف ’مقتدر حلقوں‘ کی جانب سے جیو نیوز نہ چلانے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے جو جیو نیوز کو اپنی دانست میں گستاخ اور ملک دشمن گردانتے ہیں۔

خالد آرائیں نے مزید وضاحت کی کہ اکثر مذہبی حلقے کیبل آپریٹرز کو جیو نیوز بند رکھنے کے لیے دھمکیاں دے رہے ہیں جس کےبعد ان کی ایسوسی ایشن نےفیصلہ کیا ہے کہ ہر کیبل آپریٹر اپنےعلاقے کے حالات کے مطابق جیو چلانے یا نہ چلانےکا فیصلہ کرے گا۔

خالد آرائیں کےمطابق وہ جیو چلانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی چینل کو بند کرنے کےخلاف ہیں تاہم ملک کے ’بااثر حلقے‘ جیو بند رکھنے کے لیے ان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس صورتحال میں کیبل آپریٹرز کے پاس آگے کنواں پیچھے کھائی کی سی صورتحال ہے۔

انھوں نے پیمرا اور پنجاب حکومت کی جانب سے کیبل آپریٹرز کے خلاف جاری پولیس کی مبینہ کارروائیوں کی مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری چاہدری طاہر جاوید کو پیمرا کی درخواست پر 18 جون کو مقدمہ درج کرکے 21 جون کو لاہور سے گرفتار کیا گیا اور پھر ملتان لے جاکر گرمی اور حبس میں آٹھ گھنٹے تک کھڑا رکھا گیا اور شدید ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث وہ اب ہسپتال میں ہیں اور وہاں سے بھی پولیس انھیں تھانے لے جانے کی کوشش کرچکی ہے۔

ان کے مطابق یہ صورتحال پنجاب کی حد تک ہی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں کم از کم حکومتوں کی جانب سے ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

پاکستان میں حامد میر پر ہونے والے حملے اور اس کے جواب میں جیو کی کوریج کے بعد سے پاکستان میں جو میڈیا ہاؤسز کی کے درمیان لڑائی شروع ہوئی ہے اس میں سب زیادہ دباؤ کیبل آپریٹرز کو سہنا پڑ رہا ہے۔

اسی بارے میں