’شمالی وزیرستان سے آنے والے دس افراد حراست میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکھر میں دو مقامات پر خیبر پختون خوا سے آنے والی بسوں کی تلاشی لی جارہی ہے: ایس ایس پی سکھر

سندھ پولیس نے شمالی وزیرستان سے آنے والے دس مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

ایس ایس پی سکھر تنویر تنیو نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مشکوک افراد خاندان کے بغیر بسوں کی مدد سے کراچی جا رہے تھے اور پولیس نے جب ان سے معلومات لی تو وہ انہیں مطمئن نہیں کرسکے جس وجہ سے انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سکھر میں دو مقامات پر خیبر پختون خوا سے آنے والی بسوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تلاشی کے دوران مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے جاتے ہیں اور شمالی وزیرستان سے آنے والے افراد کی رجسٹریشن کے علاوہ ان کی فنگر پرنٹس بھی لیے جاتے ہیں جن کو پولیس کے مرکزی ڈیٹا میں فیڈ کیا جاتا ہے۔

ایس ایس پی تنویر تنیو کے مطابق ایسی اطلاعات ہیں کہ طالبان دہشت گرد آئی ڈی پیز کی شکل میں شہروں میں داخل ہوسکتے ہیں اس لیے سندھ حکومت نے چیکنگ اور تصدیق کی ہدایت جاری کی ہیں۔

ان کے مطابق حراست میں لیے گئے دس افراد کے شناختی کارڈز کی پیر کو تصدیق کرائی جائے گی اگر وہ پاکستانی شہری ہیں اور کسی جرم میں ملوث نہیں تو انہیں رہا کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سندھ حکومت اعلان کیا تھا کہ شمالی وزیرستان سے آنے والے متاثرین کا سندھ میں خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔ اس بارے میں کوئی تحریری حکم نامہ تو جاری نہیں کیا گیا تاہم سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے تو اس حد تک کہا کہ سندھ نے دیگر صوبوں کے لوگوں کا ٹھیکہ نہیں لیا۔

چند روز پہلے محکمہ صحت سندھ اور صحت کے عالمی ادارے کے اہلکاروں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ کراچی کے علاقوں بلدیہ، لانڈھی اور گلشن اقبال میں پانچ ہزار سے زائد متاثرین پہنچ چکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ ان بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے تین سو پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ معمول کے علاوہ خصوصی مہم کے تحت ان کی ویکسین ہوگی۔

بنوں اور میر علی کے درمیان واقع بکا خیل کے مقام پر پاکستان فوج کی نگرانی میں بھی متاثرین بچوں اور بڑوں کو ویکیسن دی جارہی ہے اس کے علاوہ بنوں سے باہر جانے والے راستوں پر بھی پولیو ورکر تعینات ہیں۔

ان پولیو ورکرز کا کہنا ہے کہ پچاس فیصد خاندان بچوں کو ویکیسن نہیں کراتے اور وہ انہیں حکام نے ہدایت کی ہے کہ انکار کرنے والوں سے الجھا نہ جائے۔

اسی بارے میں