آل پارٹیز کانفرنس میں شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس کمیشن کو اختیار ہو کہ وہ وزیراعظم، وفاقی وزرا، وزیر اعلیٰ سمیت سب کو انکوائری کے لیے طلب کرسکے: طاہر القادری

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن لاہور منہاج القرآن سیکریٹریٹ میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں وزیراعلیٰ پنجاب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مطالبے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ ازخود مستعفی نہ ہوں تو صدرمملکت اپنا آئینی کردار ادا کرتے ہوئے انھیں عہدے سے ہٹا دیں۔

یہ مشترکہ اعلامیہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پڑھ کر سنایا۔

منہاج القرآن منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ میں ہونے والی اس آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے شرکت نہیں کی جبکہ حکمران مسلم لیگ نون کو اس میں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی۔

آل پارٹیز کانفرنس کے پانچ نکاتی اعلامیہ میں کہا گیا کہ منہاج القرآن سیکریٹیریٹ کے واقعے پر ہوم سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس سمیت تمام پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسروں کو برطرف کر کے انھیں قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا جائے جیسا کہ کسی بھی شہری کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔

رواں ماہ کی 17جون کو لاہور میں واقع منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ کے قریب پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 97 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

اتوار کو اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی تحقیقات سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل کمیشن کرے اور یہ کمیشن ایسے ججوں پر مشتمل ہونا چاہیے جن پر متاثرین کو اعتماد ہو۔

طاہر القادری نے کہا کہ اس کمیشن کو اختیار ہو کہ وہ وزیراعظم، وفاقی وزرا، وزیر اعلیٰ سمیت سب کو انکوائری کے لیے طلب کرسکے۔

انھوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اس واقعے کی انکوائری اور تفتیش کے لیے وفاقی تحقیقاتی اداروں کے اعلیٰ سطح کے افسران پر مشتمل ایک ایسی ٹیم بنائے جس پر متاثرین ماڈل ٹاؤن کا پورا اعتماد ہو۔

اس آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ قاف کے سربراہ چودھری شجاعت حسین، تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی، ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینرخالد مقبول صدیقی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سمیت 40 کے قریب چھوٹی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ 17 جون کو پولیس نے براہ راست فائرنگ کر کے ان کے 14 کارکنوں کو ہلاک اور 125 کو زخمی کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ پولیس آپریشن ایسی حفاظتی رکاوٹوں کو ہٹانے کی آڑ میں کیا گیا جو رکاوٹیں ہائی کورٹ کے حکم پر خود پولیس نے لگائی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس واقعے پر صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو مستعفی ہونے کا حکم دیا تھا

انھوں نے کا مطالبہ کیا مقدمہ کی اس ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے جس کی درخواست متاثرین ماڈل ٹاؤن نے دی تھی۔

مسلم لیگ قاف کے رہنما چودھری شجاعت حسین نےکہا کہ ’ذمہ داروں کو سزا نہ ملی تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا ریاستی دہشت گردی چلتی رہے گی اور کوئی اسے روک نہیں پائے گا‘۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینرخالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پنجاب حکومت کی موجودگی میں آزادانہ تحقیقات ممکن نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والوں کو سزا نہ دی گئی تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ متاثرہ فریق کے عدم اعتماد کے بعد اس جوڈیشل کمیشن کے کام کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا جو حکومت نے قائم کیا ہے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کسی منصوبہ بندی کے بغیر ہوا ان کی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔

اسی بارے میں